بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پاکستان میں رہتے ہوئے افغانستان کے ساتھ روزہ اور عید کرنے کا شرعی حکم


سوال

ًافغانستان اور پاکستان بلادِ بعیدہ ہے یا قریبہ؟  اگر بلادِ قریبہ ہے توپاکستانیوں کا امارتِ اسلامیہ افغانستان کی شرعی ہلال کمیٹئ کے ساتھ روزہ اور عید کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  بلادِ  بعیدہ کی تعیین میں اقوال مختلف ہیں، علامہ شامی نے لکھا ہے کہ: بعض فقہاء فرماتےہیں: ایک مہینہ کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے، اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق تین دن کا سفر ۴۸ میل بنتا ہے ،تو اس کے حساب سے چارسو اسی میل کی مسافت پر مطلع تبدیل ہوگا۔ دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ:اختلافِ مطالع چوبیس فرسخ سے کم فاصلہ میں ممکن ہی نہیں ہے  ،اور ایک فرسخ میں تین میل ہوتے ہیں ،لہٰذا 72 شرعی میل پر مطلع بدل جائے گا ،نیز  معارف السنن میں محدث العصر حضرت بنوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ تقریباً پانچ سو میل کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے۔

بلادِ قریبہ و بعیدہ میں  اختلافِ مطالع کے حوالے سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ  اپنے رسالہ "إحكام الادلّة في أحكام الأهلة"میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں :

"استاذمحترم حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے فتح الملہم شرح مسلم میں اسی آخری قول کو ترجیح کے لیے ایسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہےکہ اس پر نظر کرنے کے بعد اس قو ل کی ترجیح واضح ہوجاتی ہے، خصوصاً اس زمانےمیں جب کہ مشرق و مغرب کا فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہورہا ہے،وہ یہ کہ قرآن وسنت میں یہ بات منصوص اور قطعی ہے کہ کوئی  مہینہ انتیس دن سے کم اور تیس دن سے زائد نہیں ہوتا، بلادِ بعیدہ اور مشرق ومغرب کے فاصلوں میں اگر اختلافِ مطالع مطلقاًنظر انداز کر دیا جائے، تو اس نصِ قطعی کے خلاف یہ لازم آ جائے گا ،کہ کسی شہر میں اٹھائیس کو بعید ملک سے اس کی شہادت پہنچ جائے کہ آج وہاں چاند دیکھ لیا گیا ہے ،تو اگر اس شہر کو دوسرے کے تابع کیا جائے تو اس کا مہینہ اٹھائیس کا رہ جائے گا ، اسی طرح اگر کسی شہر میں رمضان کی تیس تاریخ کو کسی بعید ملک کے متعلق بذریعہ شہادت یہ ثابت ہو جائے، کہ آج وہاں انتیس  تاریخ ہے، اور اگر چاند نظر نہ آیا تو کل وہاں روزہ ہوگا، اور اتفاقاً چاند نظر نہ آیا تو ان کو اکتیس روزے رکھنے پڑیں گے، اور مہینہ اکتیس کا قرار دینا پڑے گا، جو نص قطعی کے خلاف ہے ،اس لیے ناگزیر ہے کہ بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا جاۓ۔

حضرت علامہ عثمانی کی اس تحقیق سے اس کا بھی فیصلہ ہو گیا، کہ بلا دِقر یبہ اور بعیدہ میں قرب و بعد کا معیار کیا اور کتنی مسافت ہوگی؟ وہ یہ کہ جن بلاد میں اتنا فاصلہ ہو، کہ ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ اعتبار کرنے کے نتیجے میں مہینہ کے دن اٹھائیس رہ جائیں، یا اکتیس ہو جائیں، وہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا جائے گا، اور جہاں اتنا فاصلہ نہ ہو وہاں نظر انداز کیا جاۓ گا ،احقر کا گمان یہ ہے امام اعظم ابوحنیفہ اور دوسرے ائمہ جنہوں نے اختلافِ مطالع کو غیر معتبر قرار دیا ہے ،اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ جن بلاد میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہے، وہاں ایک جگہ کی شہادت دوسری جگہ پہنچنا ان حضرات کے لیے محض ایک فرضی قضیہ اور تخیل سے زائد کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، اور ایسے فرضی قضایا سے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا،  نادر کو حکمِ معدوم قرار دینا فقہاء میں معروف ہے، اس لیے اختلافِ مطالع کو مطلقاً غیر معتبر فرمایا،لیکن آج تو ہوائی جہازوں نےساری دنیا کے مشرق و مغرب کو ایک کرڈالاہے،ایک جگہ کی شہادت دوسری جگہ پہنچنا قضیہ فرضیہ نہیں،بلکہ روز مرہ کا واقعہ بن گیا ہے، اور اس کے نتیجے میں اگر مشرق کی شہادت مغرب میں اور مغرب کی شہادت مشرق میں حجت مانی جائے،توکسی جگہ مہینہ اٹھائیس دن کا کسی جگہ اکتیس دن کا ہونا لازم آ جاۓ گا،اس لیے ایسے بلادِ بعیدہ میں جہاں مہینہ کے دنوں میں کمی بیشی کا امکان ہو، اختلافِ مطالع کا اعتبار کرنا ہی ناگزیر اور مسلکِ حنفیہ کے عین مطابق ہوگا۔

(ماخوذ از جواہر الفقہ، کتاب الصوم،ج:3،ص:481 تا  483، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

جہاں تک بات پاکستان میں  رہنے والے کسی فرد کا افغانستان کی شرعی ہلال کمیٹی کے ساتھ روزہ اور عید کرنے کے جواز و عدمِ جواز کا مسئلہ ہے ، عصرِ حاضر کے تمام مسلم ممالک میں چاند کی رؤیت کے لیے باقاعدہ رؤیتِ ہلال کمیٹیاں موجود ہیں، جو باقاعدہ چاند دیکھ کر رمضان اور عید وغیرہ کا اعلان کرتی ہیں،اور ہر مسلم ملک کی  رؤیت ہلال کمیٹی  قاضئ شرعی کی  حیثیت    رکھتی ہے، اور شہادت موصول ہونے پر اگر وہ اعلان کردے تو اس ملک کی حدود اور ولایت میں  رہنے والے جن لوگوں تک یہ اعلان یقینی اور معتبر ذرائع سے پہنچ جائے ، ان پر شرعا ًاس فیصلے کے مطابق عمل کرنالازم ہے ، لہذا پاکستان کے باشندوں پر اپنے  ملک کی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلہ کی پاس داری کرنا لازم ہے ،  پاکستان میں رہتے ہوئے  روزہ اور عید کے لیے افغانستان کی رؤیت ہلال کمیٹی کا اعتبار کرنا درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وقدر البعد الذي تختلف فيه المطالع مسيرة شهر فأكثر على ما في القهستاني عن الجواهر اعتبارا بقصة سليمان - عليه السلام -، فإنه قد انتقل كل غدو ورواح من إقليم إلى إقليم وبينهما شهر. اهـ.

ولا يخفى ما في هذا الاستدلال وفي شرح المنهاج للرملي وقد نبه التاج التبريزي على أن اختلاف المطالع لا يمكن في أقل من أربعة وعشرين فرسخا وأفتى به الوالد والأوجه أنها تحديدية كما أفتى به أيضا اهـ فليحفظ."

( كتاب الصوم ، باب صوم رمضان ، ج:2 ، ص:393 ، ط:ايچ ايم سعيد )

معارف السنن میں ہے :

"وعلى كل حال بلاد الهند واسعة الأرجاء تختلف عروضها من ست عشرة درجة إلى أربع و ثلاثين درجة، والمسافة بينها تبلغ إلى نحو ألفي ميل، وحققوا وقوع الاختلاف في المطلع بنحو خمس مائة ميل، فكيف يتصور الجهد للتوحيد في مثله؟."

(معارف السنن شرح سنن الترمذي، تحقيق اعتبار اختلاف المطالع، ج:5، ص:343، ط:مجلس الدعوة والتحقيق الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وأقرب الأقوال ‌أن ‌الميل وهو ثلث الفرسخ."

( كتاب الطهارة ، الباب الرابع ، الفصل الأول لابد منها في التيمم ، ج:1 ، ص:27 ، ط:دارالفكر)

   نیل الأوطار میں  ہے:

"وثانيها: أنه لايلزم أهل بلد رؤية غيرهم إلا أن يثبت ذلك عند الإمام الأعظم فيلزم كلهم؛ لأن البلاد في حقه كالبلد الواحد إذ حكمه نافذ في الجميع، قاله ابن الماجشون".

(كتاب الصوم، باب الهلال إذا رآه أهل بلدة هل يلزم بقية البلاد الصوم، ج:4 ، ص:230 ، ط: دار الحديث، مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101159

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں