بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پاکی کے ایام میں نظر آنے والے خون کا حکم


سوال

جس کو پاکی کے دنوں میں ہلکا سبز یا زرد یا ہلکا براؤن یا سفید یا کبھی بالکل شفاف پانی کی طرح کا مادہ نظر آتا ہے تو وہ اپنے حیض کے ختم ہونے کا کیسے اندازہ لگائے؟اس کی عادت 6 یا 7 دن ہے۔اب اگر چھٹے دن یا ساتویں دن اس کو زرد زرد یا ہلکا براؤن رنگ نظر آئے تو کیا وہ پاک شمار ہوگی یا بالکل خالص سفیدی جب آئے تب پاک شمار ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  خالص سفیدی کے علاوہ باقی تمام رنگ حیض کے شمار ہوتے ہیں، لہذا مذکورہ عورت کی  ماہواری کی  جو عادت  مقرر ہے ،مثلاً اس کی عادت 6 یا 7 ایام ہے ، ان ایام میں آنے والا خون وہ کسی بھی رنگ کا ہو  ، وہ حیض کا خون کہلائے گا، اور جب خون عادت کے ایام سے بڑھ جائے اور خالص سفیدی کے علاوہ کسی بھی رنگ کا ہو(چاہے سبز، یا زرد یا براؤن رنگ ہو)تو یہ عورت انتظار کرے، اگر  یہ خون دس دن مکمل ہونے سے پہلے بند ہوجاتا ہے   تو یہ تمام ایام مکمل حیض کے شمار ہوں گےاور اس کو عادت کی تبدیلی شمار کیا جائےگا۔

لیکن اگر یہ خون عادت کے ایام کے بعد دس دن  سے بھی زیادہ بڑھ گیا تو  اس صورت میں عادت کے مطابق 6یا 7 دن (جو عادت کے ایام ہوں وہ )حیض کے ہوں گے اور باقی  ایام استحاضہ کا خون شمار ہوگا، اور استحاضہ کے ایام کے نماز اور روزے دونوں کی قضا لازم ہوگی، جب کہ حیض کے دنوں کے صرف روزوں کی قضا ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وما تراه) من لون ككدرة وتربية (في مدته) المعتادة (سوى بياض خالص) قيل: هو شيء يشبه الخيط الأبيض. (قوله: ككدرة وتربية) اعلم أن ألوان الدماء ستة: هذان والسواد والحمرة والصفرة والخضرة".

(باب الحیض، ج:۱،ص:۲۸۸،ط:سعید)

الفتاوى العالمكيرية   میں ہے:

"(ومنها) أن يكون على لون من الألوان الستة: السواد والحمرة والصفرة والكدرة والخضرة والتربية هكذا في النهاية وإنما يعتبر اللون على الكرسف حين يرفع وهو طري لا حين يجف. هكذا في المحيط ... الطهر المتخلل بين الدمين والدماء في مدة الحيض يكون حيضًا."

(کتاب الحیض،الباب السادس في الدماء المختصة بالنساءج:۱،ص:۳۶،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

و فیہ ایضاً :

"فإن لم يجاوز العشرة فالطهر والدم كلاهما حيض سواء كانت مبتدأة أو معتادة وإن جاوز العشرة ففي المبتدأة حيضها عشرة أيام وفي المعتادة معروفتها في الحيض حيض والطهر طهر. هكذا في السراج الوهاج."

(کتاب الحیض،الباب السادس في الدماء المختصة بالنساءج:۱،ص:۳۷،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

و فیہ ایضاً:

"فإن رأت بين طهرين تامين دمًا لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معًا انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيًّا كان الدم أو حكميًّا هذا إذا لم يجاوز العشرة فإن جاوزها فمعروفتها حيض و ما رأت على غيرها استحاضة فلاتنتقل العادة، هكذا في محيط السرخسي."

(کتاب الحیض،الباب السادس في الدماء المختصة بالنساءج:۱،ص:۳۹،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144307101622

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں