بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پیشگی رقم ادا کرنے کی وجہ سے قیمت میں کمی کا حکم


سوال

ایڈوانس رقم دے کر کسی چیز کی قیمت میں کمی کروائی جا سکتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مال موجود نہیں ہے ،تو اس صورت میں  ایڈوانس رقم دے کر مقررہ وقت پر رعایتی قیمت پر بائع  سے خرید و فروخت کا معاملہ کرنا   عقد   سلم کے حکم میں ہے،ایسا عقد جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا موجود ہونا ضروری ہے :

1)جنس معلوم ہو۔

2)نوع  معلوم ہو ۔

3)صفت   معلوم ہو ۔

4)قدر اور اندازہ   معلوم ہو ۔

5)مدت معلوم ہو ،کم از کم ایک ماہ ہو ۔

6)راس المال( سرمایہ  کی مقدار) معلوم ہو ۔

7)مطلوبہ چیز  کے دینے کی جگہ معلوم ہو ۔

8)جدائیگی سے پہلے مجلس عقد میں مکمل راس المال (چیز کی مقرر کی گئی قیمت)پر قبضہ ہو۔

اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی گئی تو  ایسا   عقد کرنا  جائز نہیں ہوگا ۔

اور اگر مال موجود  ہے ،لیکن مال کی    ڈیلوری کچھ مدت بعد ہوگی، جیسا کہ مختلف دواء ساز کمپنیوں میں ہوتا ہے،کہ ایڈوانس رقم دینے والے کو عام خریدار وں کی بنسبت 20 یا 30 فیصد رعایت دیتے ہیں ،اور مال موجود بھی ہوتا ہے ،لیکن ڈیلوری کچھ مدت بعد ہوتی ہےتو اس طرح ایڈوانس رقم دے کر رعایت کے ساتھ  خریدنا شرعاً جائز ہے ،اس لیے کہ یہ  رعایت مستقل گاہک  ہو نے کی وجہ سے ہے،کیوں کہ تاجروں کا طریقہ ہے کہ اپنے مستقل گاہکوں کو رعایت  دیا کرتے ہیں،اور ایڈوانس رقم کا  مطالبہ یہ اطمینان حاصل کرنے کے لیے ہے کہ یہ شخص واقعۃً مقررہ مدت پر دوائی ضرور خریدے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرطه) أي شروط صحته التي تذكر في العقد سبعة (بيان جنس) كبر أو تمر (و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي (وصفة) كجيد أو رديء (وقدر) ككذا كيلا لا ينقبض ولا ينبسط (وأجل وأقله) في السلم (شهر) به يفتى وفي الحاوي لا بأس بالسلم في نوع واحد على أن يكون حلول بعضه في وقت وبعضه في وقت آخر۔۔(و) بيان (قدر رأس المال) إن تعلق العقد بمقداره كما (في مكيل وموزون وعددي غير متفاوت)۔۔ (و) السابع بيان (مكان الإيفاء) للمسلم فيه (فيما له حمل)۔۔(و) بقي من الشروط (قبض رأس المال) ولو عينا (قبل الافتراق) بأبدانهما."

(کتاب البیوع ،باب السلم،ج:5،ص:215،ج:سعید)

وفیہ ایضاً:

"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا. اهـ.قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى، وهذا ظاهر فيما كان ثمنه معلوما وقت الأخذ مثل الخبز واللحم أما إذا كان ثمنه مجهولا فإنه وقت الأخذ لا ينعقد بيعا بالتعاطي لجهالة الثمن، فإذا تصرف فيه الآخذ وقد دفعه البياع برضاه بالدفع وبالتصرف فيه على وجه التعويض عنه لم ينعقد بيعا، وإن كان على نية البيع لما علمت من أن البيع لا ينعقد بالنية، فيكون شبيه القرض المضمون بمثله أو بقيمته فإذا توافقا على شيء بدل المثل أو القيمة برئت ذمة الآخذ، لكن يبقى الإشكال في جواز التصرف فيه إذا كان قيميا."

(کتاب البیوع ،ج:4،ص:515،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں