بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پیسے کے بدلے پیسے ادھر لینے کا حکم


سوال

پیسے کے بدلہ پیسے لینا یعنی کھلا لینا اس میں ادھار کرنا جائز ہے ؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کا کوئی شرعی حل بتادیں

جواب

واضح رہے  کہ جب بیعِ صرف میں   دو چیزیں  ایک ہی جنس کی  ہوں  اور دونوں  مقدارمیں بھی متحد ہوں تو  ان کا لین دین  برابر سرابر اور نقد  ہونا  ضروری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں پیسے کُھلے کراتے وقت  ادھار کا  معاملہ کرنا جائز نہیں ، البتہ اس کی جائز صورت یہ  ہو سکتی ہے کہ بندھے پیسہ قرضہ کے طور پر دے دے جائیں اور بعد میں کُھلے پیسہ وصول کر لیے جائیں ۔

فتاویٰ شامی میں ہے: 

’’باب الصرف۔۔۔۔۔۔۔۔ (ھو) لغۃً: الزیادۃ، وشرعاً (بیع الثمن بالثمن) أی ماخلق للتنمیۃ ومنہ المصوغ (جنسا بجنس أو بغیر جنس) کذہب بفضۃ (ویشترط) عدم التأجیل والخیار و(التماثل) أی التساوی وزناً (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلیۃ (قبل الافتراق).‘‘

( باب الصرف، ج:5، ص:257،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں