بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پیسے جمع کرکے کرکٹ کا ٹورنامنٹ کروانا


سوال

 پیسے جمع کرکے کرکٹ کا ٹورنامنٹ کروانا کیسا ہے ، اور یہ بات پہلے سے بتانا کہ جیتنے والی ٹیم کو دس ہزار روپے انعام ملے گا اور جو ٹیم فائنل میں ہار جائے گی اس کو پانچ ہزار روپے انعام ملے گا ، کیا آیا اس طرح کھیلنا جائز ہوگا؟ اور اگر اس طرح کھیلنا جائز نہیں تو جائز طریقہ بتا دیں۔

جواب

  جواب سے پہلے تمہید کے طور پر یہ ذہن نشین رہے کہ    کسی بھی   کسی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہوگا:

1۔۔  وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز   بات نہ ہو۔

2۔۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت  ہو، مثلاً جسمانی  ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔۔  کھیل میں غیر شرعی امور(مثلاً تصویر، موسیقی اور جوا وغیرہ) کا ارتکاب نہ کیا جاتا  ہو۔

4۔۔  کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے  کہ جس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

اگر ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے کرکٹ ٹورنامنٹ   کھیلا جائے تو فی نفسہ ایسا ٹورنامنٹ کھیلنے   کی گنجائش ہے،تاہم  ٹورنامنٹ میں یہ شرط رکھنا کہ  ہر ٹیم ایک مخصوص رقم جمع کرائے گی اور پھر ٹورنامنٹ میں   جیتنے والی ٹیم کو دس ہزار روپے انعام ملے گا اور جو ٹیم فائنل میں ہار جائے گی اس کو پانچ ہزار روپے انعام ملے گا، یہ  شرط "قمار" یعنی جوے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے،جس سے بچنا ہر مسلمان کے ذمہ لازم ہے۔

البتہ اگر ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنے والی منتظمہ کمیٹی صرف انتظامات کی مد میں انٹری (داخلہ) فیس وصول کرے اور  انعام کے عنوان سے کوئی رقم  نہ لے  اور پھر  اس جمع شدہ رقم میں سے ٹورنامنٹ کے اخراجات پورے کرے  اورجیتنے والوں کو یا کھیل میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو حسبِ صواب دید انعام دیں اور اس بارے میں مکمل با ختیار ہوں کہ کم یا زیادہ جتنا چاہے انعام مقررکریں اور چاہےنقد رقم انعام میں دیں یا کوئی ٹرافی وغیرہ دیں ، چاہیں تو بالکل نہ دیں تو یہ صورت جائز ہے۔

اسی طرح اگر منتظمہ کمیٹی صرف اخراجات اور انتظامات کی مد میں فیس وصول کرنے کے بعد خود سے کوئی انعام نہ دے بلکہ انعامی رقم کسی ایسے تیسرے شخص  کی طرف سے دی جائے جس نے ٹیموں سے کوئی فیس وصول نہ کی ہو تو یہ بھی جائز ہے۔

الدر المختار میں ہے:

"(ولا بأس بالمسابقة في الرمي والفرس) والبغل والحمار، كذا في الملتقى والمجمع، وأقره المصنف هنا خلافاً لما ذكره في مسائل شتى، فتنبه، (والإبل و) على (الأقدام) ... (حل الجعل) ... (إن شرط المال) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين)؛ لأنه يصير قمارًا (إلا إذا أدخلا ثالثًا) محللاً (بينهما) بفرس كفء لفرسيهما يتوهم أن يسبقهما وإلا لم يجز ثم إذا سبقهما أخذ منهما وإن سبقاه لم يعطهما وفيما بينهما أيهما سبق أخذ من صاحبه ...  وأما السباق بلا جعل فيجوز في كل شيء كما يأتي.

وفي الرد: (قوله: من جانب واحد) أو من ثالث بأن يقول أحدهما لصاحبه: إن سبقتني أعطيتك كذا، وإن سبقتك لا آخذ منك شيئًا، أو يقول الأمير لفارسين أو راميين: من سبق منكما فله كذا، وإن سبق فلا شيء له، اختيار وغرر الأفكار. (قوله: من الجانبين) بأن يقول: إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك، كذا زيلعي. وكذا إن قال: إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية. (قوله: لأنه يصير قمارًا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قمارًا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد؛ لأن الزيادة والنقصان لاتمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلاتكون مقامرةً؛ لأنها مفاعلة منه، زيلعي. (قوله: يتوهم أن يسبقهما) بيان لقوله: كفء، لفرسيهما أي يجوز أن يسبق أو يسبق (قوله: وإلا لم يجز) أي إن كان يسبق أو يسبق لا محالة لايجوز؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "«من أدخل فرسًا بين فرسين وهو لايأمن أن يسبق فلا بأس به، ومن أدخل فرسًا بين فرسين وهو آمن أن يسبق فهو قمار». رواه أحمد وأبو داود وغيرهما، زيلعي".

(الدر المختار مع رد المحتار،‌‌كتاب الحظر والإباحة،  ‌‌فصل في البيع، 402/6، سعید)

  تکملۃ فتح الملہم شرح صحیح المسلم میں ہے:

"فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام اور مكروه تحريماً، ... وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة ... كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه."

( کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنردشیر، 381 / 4، ط: داراحیاء التراث العربی)

المحيط البرهاني في الفقه النعماني "میں ہے:

"فإن شرطوا لذلك جعلاً، فإن شرطوا الجعل من الجانبين فهو حرام، وصورة ذلك: أن يقول الرجل لغيره: تعال حتى نتسابق، فإن سبق فرسك، أو قال: إبلك أو قال: سهمك أعطيك كذا، وإن سبق فرسي، أو قال: إبلي، أو قال: سهمي أعطني كذا، وهذا هو القمار بعينه؛ وهذا لأن القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز.وإن شرطوا الجعل من أحد الجانبين، وصورته: أن يقول أحدهما لصاحبه إن سبقتني أعطيك كذا، وإن سبقتك فلا شيء لي عليك، فهذا جائز استحساناً، والقياس أن لا يجوز. "

(المحيط البرهاني، كتاب الكراهية والاستحسان، ‌‌‌‌الفصل السابع في المسابقة، 323 /5، ط: دارالكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144410100438

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں