بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی دم کٹے جانور کی قربانی کا حکم


سوال

پیدائشی طور پر بغیر دم والے جانور کی قربانی کاکیا  حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں پیدائشی طور پر بغیر دم والے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما الذي يرجع إلى محل التضحية فنوعان: أحدهما: سلامة المحل عن العيوب الفاحشة؛ فلا تجوز العمياء ولا العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها وهي التي لا تقدر تمشي برجلها إلى المنسك، والمريضة البين مرضها والعجفاء التي لا تنقي وهي المهزولة التي لا نقي لها وهو المخ، ومقطوعة الأذن والألية بالكلية، والتي لا أذن لها في الخلقة."

(کتاب التضحیۃ،فصل فی شرائط جواز اقامۃ الواجب فی الاضحیۃ،ج:5،ص:75،دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144512100117

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں