بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

پیدائش سے پہلے نام رکھ کر بدلنا


سوال

بچے کی پیدائش سے پہلے  "محمد مصطفیٰ"  نام رکھا،  اب عقیقہ کے وقت اس کا نام "محمد اشعر"  رکھنا چاہتے ہیں،  شرعاً کوئی مسئلہ تو نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں پیدائش سے پہلے جو نام رکھا اس کا  اعتبار نہیں ہے ،نام رکھنے کا اعتبار تو پیدائش کے بعد ہی ہے، نیز پیدائش کے بعد بھی نام رکھ کر بدلا جاسکتاہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جو بھی نام رکھا جائے وہ اچھے معنی پر مشتمل ہو، یا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو؛  لہذا  "محمد اشعر"  نام رکھا جاسکتا ہے، البتہ  "محمد مصطفی " نام  رکھنا زیادہ بہتر ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200223

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں