بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پیدائش کے ایک سال بعد عقیقہ کے طور پر ایک دن ایک بکرا اور کچھ دن بعد دوسرا بکرا ذبح کرنے کا حکم


سوال

 زید کے گھر ایک لڑکے کی ولادت کو ایک سال سے زائد کاعرصہ ہوا، اب زید  اس کا عقیقہ  دو  جانور  میں کرنا چاہتا ہے، ایک مثال کے طور پر آج اوردوسراجانور ہفتہ کے روز کے بعد، تو کیا یہ طریقہ قابلِ قبول ہوگا؟  

جواب

بچے  کی پیدائش پر بطورِ شکرانہ جو  قربانی کی جاتی ہے  اسے ’’عقیقہ‘‘  کہتے  ہیں، عقیقہ  کرنا مستحب  ہے، عقیقہ  کا مسنون وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو  چودھویں (14)  دن، ورنہ اکیسویں (21)  دن کرے،  اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے، اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے،  تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کرے؛  لہذا بہتر تو یہی ہے کہ اگر زید اپنے بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد اس کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے تو وہ بچے کی پیدائش کے دن سے حساب لگا کر جو دن بھی ساتواں بنتا ہو اسی دن عقیقہ کرلے، اگر ایک ساتھ دونوں بکرے ذبح کرنا کسی وجہ سے مشکل ہو تو  ایک بکرا ایک دن اور دوسرا بکرا اس کے سات دن بعد ذبح کرلے، لیکن اگر ساتویں دن کی رعایت نہ بھی رکھی جائے تب بھی عقیقہ ادا ہوجائے گا۔

المستدرک  میں ہے: 

’’عن عطاء، عن أم كرز، وأبي كرز، قالا: نذرت امرأة من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إن ولدت امرأة عبد الرحمن نحرنا جزوراً، فقالت عائشة رضي الله عنها: «لا بل السنة أفضل عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة تقطع جدولاً، ولايكسر لها عظم فيأكل ويطعم ويتصدق، وليكن ذاك يوم السابع، فإن لم يكن ففي أربعة عشر، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين». هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه".

(المستدرك علی الصحیحین للحاکم، (4/ 266) رقم الحدیث: 7595،  کتاب الذبائح، ط: دار الكتب العلمية – بيروت)

اعلاء السنن میں ہے:

’’ أنها إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر، وإلا ففي الحادي والعشرین، ثم هکذا في الأسابیع‘‘.

(17/117، باب العقیقة، ط: إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیة)

فتاوی شامی میں ہے:

’’يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنةً مؤكدةً شاتان عن الغلام، وشاةً عن الجارية، غرر الأفكار ملخصاً، والله تعالى أعلم‘‘.

(6/ 336، کتاب الأضحیة، ط: سعید)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2689):

"وعن محمد بن علي بن حسين عن علي بن أبي طالب قال: عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن بشاة، وقال: «يا فاطمة احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضةً»، فوزناه فكان وزنه درهماً أو بعض درهم. رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب وإسناده ليس بمتصل؛ لأن محمد بن علي بن حسين لم يدرك علي بن أبي طالب.  (عن الحسن بشاة)، الباء للتعدية أو مزيدة. في شرح السنة: اختلفوا في التسوية بين الغلام والجارية ... وذهب جماعة إلى أنه يذبح عن الغلام بشاتين، وعن الجارية بشاة. قلت: أما نفي العقيقة عن الجارية فغير مستفاد من الأحاديث، وأما الغلام فيحتمل أن يكون أقل الندب في حقه عقيقة واحدة وكماله ثنتان، والحديث يحتمل أنه لبيان الجواز في الاكتفاء بالأقل، أو دلالة على أنه لايلزم من ذبح الشاتين أن يكون في يوم السابع، فيمكن أنه ذبح عنه في يوم الولادة كبشاً وفي السابع كبشاً، وبه يحصل الجمع بين الروايات".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201358

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں