بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پگڑی کی دکان واپس کرتے وقت زائد رقم لینا


سوال

 زید نے بکر سے دکان کرا ۓ پر لی،  2300 روپیہ   ایڈوانس پگڑی پر دیے  اور کرایہ متعین ہوگیا 500 مثلا اور زید نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں یہ دکان خالی نہیں  کروں گا،  کرایہ دیتا  رہوں گا،  پھر بکر کا انتقال ہوگیا، اور بکر کے وارثین زید سے کرایہ والی دکان خالی کروانا چاہتے ہیں جس پر زید تیار نہیں  ہوا،  تو پھر ایک تیسرے آدمی نے جو بکر ہی رشتہ دار ہے یہ طے کردیا کہ اس وقت پگڑی کی قیمت 700000 ہے تو اسکے آدھے یعنی 350000 زید بکر کو دیدے یا پھر بکر کے وارثین سے اتنی رقم لیکر دکان خالی کردے،  سوال یہ ہے کہ زید کو شرعا یہ رقم لینا شرعا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مروجہ پگڑی کا  معاملہ شرعاً درست نہیں ہے؛ اس لیے کہ پگڑی    نہ تو مکمل   خرید وفروخت کا معاملہ ہے، اور نہ ہی مکمل اجارہ(کرایہ داری) ہے، بلکہ دونوں کے درمیان کا  ایک  ملا جلامعاملہ ہے، پگڑی پر لیا گیا مکان یا دکان  بدستور مالک کی ملکیت میں برقرار رہتا ہے۔ اور لینے والا کرایہ دار ہی شمار ہوتا ہے۔

پگڑی کا معاملہ ختم کرنے کی صورت میں  جب پگڑی پر لینے والا شخص  دکان  اس کے مالک کو واپس کرے گا تو  مالک کے ذمے پگڑی کے پیسے واپس کرنا لازم ہوں گے، البتہ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اس نے اس دکان  میں اپنی ذاتی رقم سے کوئی تعمیراتی کام وغیرہ کرایا ہے یا نہیں ،  اگر اس نے دکان  میں کوئی تعمیراتی کام مثلاً:  لکڑی کے کام، ٹائلز کے کام  یا  فرنیچر وغیرہ  کا اضافہ نہیں کیا ہے  تو  پگڑی کی جتنی رقم اس نے دی ہے صرف  وہی رقم  اس کو واپس دی جائے گی اور  دکان مالکِ دکان کی ہوگی، اور اگر اس شخص نے اپنی ذاتی رقم سے اس پگڑی کی دکان میں کوئی کام کروایا تھا ، مثلاً:  لکڑی، ٹائلز یا دیگر تعمیراتی کام، تو ایسی صورت میں وہ دکان کے  اصل مالک سے باہمی رضامندی سے ان کاموں اور سامان  کی  کوئی رقم  متعین کرکے  ان اشیاء کی خرید و فروخت کا معاملہ کرسکتا ہے۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں زید نےجو دکان کرائے پر لی تھی اگر اس دکان میں کوئی اضافی کام کروایا ہو تو اس کے عوض زائد رقم لینا جائز ہو گا اور اگر ایسا کوئی اضافی کام نہیں کروایا تو ایسی صورت  میں  زائد رقم لینا زید کے لیے  درست نہیں ہو گا، بلکہ وہ اسی قدر رقم کا مستحق ہو گا جتنی رقم اس نے دکان لیتے وقت  جمع کروائی تھی۔

         "فتاوی شامی" میں ہے:

"وفي الأشباه : لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة، كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.

(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك، ولا يجوز الصلح عنها".(4 / 518، کتاب البیوع،  ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں