بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پیچ فون کی خرید وفروخت کا حکم


سوال

 آج کل پیچ فون کی خرید وفروخت ہو رہی ہے، پیچ والا فون ایک ایسا فون ہے جس کا اصل IMEI کسی دوسرے سستے فون کے IMEI سے تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ PTA کی DUTY بچائی جا سکے ، قانوناً یہ جائز نہیں ہے، کیا ایسا فون خریدنا شرعاً درست ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ فون کی خریدو فروخت کرنا چوں کہ قانوناً جرم ہے ،جس کی وجہ سے انسان کی عزت پامال ہونے کا خطرہ ہے ؛لہذا اس قسم کے فون کی خرید وفروخت سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

تفسیر مظہری میں ہے :

"أَنْفِقُوا أموالكم فِي سَبِيلِ اللَّهِ فى الجهاد وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ،قيل: الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل: فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر‌إِلَى ‌التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل: كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل: التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه".

(ج:1،ص:215،مکتبۃ الرشدیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں