بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

پچاس ہزار تنخواہ والے مقروض شخص کو زکات دینے کا حکم


سوال

مقروض کی تنخواہ 50ہزار ہے جس سے اس کے گھرکا خرچہ چل جاتا ہے اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر مذکورہ مقروض شخص کی تنخواہ اس کے ماہانہ اخراجات میں خرچ ہوجاتی ہے تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے بشرطیکہ اس کے ذمہ واجب الادا قرضہ کی رقم منہا کرنے کے بعد اس کی ملکیت میں نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ) کے بقدر رقم یا اتنی مالیت کا ضرورت سے زائد سامان نہ بچتا ہو اور وہ مقروض ہاشمی (سید/عباسی) بھی نہ ہو۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200123

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں