بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پابندی کی حالت میں جمعہ کا حکم


سوال

اگر کسی جگہ جامعہ مسجد نہ ہو یا بہت دور ہو یاجمعہ کی نماز پر پابندی ہو تو اسی حالت میں جمعہ کی نماز کا کیاحکم ہے؟

جواب

اگر شہر کے اندر ہی  جامع مسجد دور ہو اور جانا ممکن ہو  تو وہاں حاضر ہونا چاہیے۔اور  اگر کسی ملک میں موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مساجد بالکلیہ بند ہوں یا بعض صحت مند افراد کو جمعہ کی نماز میں شرکت سے روک دیا جائے تو انہیں چاہیے کہ وہ مساجد کے علاوہ شہر ، فنائے شہر یا بڑی بستی میں جہاں چار یا چار سے زیادہ بالغ مرد جمع ہوسکیں اور ان لوگوں کی طرف سے دوسرے لوگوں کی نماز میں شرکت کی ممانعت نہ ہو، جمعہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ جمعہ کی نماز میں چوں کہ مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے؛ لہٰذا امام کے علاوہ کم از کم تین مرد مقتدی ہوں تو  بھی جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی؛ چناں چہ جمعے کا وقت داخل ہوجانے کے بعد پہلی اذان دی جائے، سنتیں ادا کرنے کے بعد  امام منبر یا کرسی وغیرہ پر بیٹھ جائے، اس کے سامنے دوسری اذان دی جائے، اور  امام خطبہ مسنونہ پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھا دے،  چاہے گھر میں ہوں یا کسی اور جگہ جمع ہو کر پڑھ لیں، عربی خطبہ اگر یاد نہ ہو تو  کوئی خطبہ دیکھ کر پڑھے، ورنہ عربی زبان میں حمد و صلاۃ اور قرآنِ پاک کی چند آیات پڑھ کر دونوں خطبے دے دیں۔ 
  اگر شہر یا فنائے شہر یا قصبہ میں چار  بالغ افراد جمع نہ ہوسکیں تو ظہر کی نماز  تنہا پڑھیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201108

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں