بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

پادریوں سے ملنے والوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حکم


سوال

ہمارے محلے میں چند آدمی مسلمان ہیں، وہ چرچ جاتے ہیں، کرسچن لوگوں سے اور ان کے پادریوں سے ملتے ہیں اور جب ہم محلے والے مسلمان بھائی ان کو کچھ کہتے ہیں کہ تم وہاں مت جاؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کرسچن کا بھی خیال رکھنا چاہیے، اور جب کہتے ہیں کہ تم اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال رکھو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا خیال رکھنے والے تو بہت سارے لوگ ہیں اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف مسلمانوں کا رب نہیں، بلکہ رب العالمین ہے، لہذا اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم محلہ والے مسلمانوں کو ان مذکورہ آدمیوں کے ساتھ کیا برتاؤ اور سلوک کرنا چاہیے؟ محلہ میں رہنے دیں یا ان سے بالکل تعلق ختم کر دیں؟ ہمارے لیے اسلامی حکم کیا ہے؟ایسے لوگوں کے لیے شریعت میں کیا حکم اور کیا سزا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ غیر مسلموں کو دین کی دعوت دینے کے لیے یا دینِ اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے ان کے ساتھ حُسنِ  اخلاق و نیک برتاؤ  اور ظاہری خوش خُلقی سے پیش آنا درست ہے،  اور اسلامی اخلاق سے متاثر کرکے غیر مسلم کو اسلام کی طرف مائل کرنا بھی درست ہے، اسی طرح اگر غریب ہیں مالی تعاون کرنے سے اسلام کی طرف راغب ہونے کا احتمال ہے تو ان کو مالی تعاون کرنا بھی جائز ہے، حضرت خالد بن ولید  رضی اللہ عنہ نے حیرہ کو فتح کرنے کے بعد جو معاہدہ نامہ لکھا اُس میں فقراء غیر مسلمین کے لیے بیت المال سے وظیفہ دینے کا حکم فرمایا۔

الخراج لابی یوسف میں ہے:

"‌أيما ‌شيخ ضعف عن العمل أو أصابته آفة من الآفات أو كان غنيا فافتقر وصار أهل دينه يتصدقون عليه طرحت جزيته وعيل من بيت مال المسلمين وعياله ما أقام بدار الهجرة ودار الإسلام"۔

(‌‌فصل: في الكنائس والبيع والصلبان، صفحہ: 158، طبع: المكتبة الأزهرية للتراث)

ترجمہ:

جو بوڑھا آدمی کسب سے عاجز ہو گیا یا اس کو کوئی آفت پہنچ گئی جس کے سبب معذور ہو گیا یا پہلے مالدار تھا پھر مفلس ہو گیا، اور اس کے ہم مذہب لوگ اس کو مستحق سمجھنے لگے تو اس سے ٹیکس معاف کر دیا جائے گا اور بیت المال سے اس کو اور اس کے عیال کو بقدرِ کفایت وظیفہ دیا جائے گا جب تک وہ دار الاسلام میں اقامت کرے۔

جہاں تک قلبی تعلق اور دلی  دوستی  کی بات ہے تو یہ کسی غیر مسلم کے  لیے رکھنا جائز نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾ [آل عمران:28]

ترجمہ: مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کو (ظاہراً یا باطناً) دوست نہ بناویں  مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کرکے ، اور جو شخص ایسا (کام) کرے گا سو وہ شخص اللہ کے ساتھ (دوستی رکھنے کے) کسی شمار میں نہیں، مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

" کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں: موالات یعنی دوستی۔ مدارات: یعنی ظاہری خوش خلقی۔ مواساۃ:  یعنی احسان و نفع رسانی۔

موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ اور مدارات تین حالتوں میں درست ہے:  ایک دفعِ ضرر کے واسطے، دوسرے اس کافر کی مصلحتِ دینی یعنی توقعِ ہدایت کے واسطے، تیسرے اکرامِ ضیف کے لیے، اور اپنی مصلحت و منفعتِ مال و جان کے لیے درست نہیں۔ اور مواسات کا حکم یہ ہے کہ اہلِ حرب کے ساتھ ناجائز ہے اور غیر اہلِ حرب کے ساتھ جائز۔" (بیان القرآن)

خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس بات کی امید ہو کہ اچھے سلوک اور اچھے اخلاق کی وجہ سے متاثر ہوکر غیر مسلم اسلام قبول کرلیں گے تو ان سے تعلق رکھنا چاہیے اور ان کا خوب اکرام کرنا چاہیے۔  لیکن اگر اس بات کی بالکل کوئی امید نہ ہو  یا تعلق رکھنے کا مقصد کوئی دنیوی مفاد ہو  تو ان سے دور رہنا ضروری ہے۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ سائل کے محلہ میں جو لوگ غیر مسلموں سے روابط رکھتے ہیں، وہ کس نوعیت کے ہیں، اگر وہ جائز ہیں اور ان کو اسلام  کی طرف راغب کرنے کے لیے ہیں تو اچھی بات اور اگر تعلقات کی نوعیت ایسی نہ ہو بلکہ موالات کے قبیل سے ہو اور قلبی تعلق اور دلی  دوستی ہو تو ایسی دوستی چونکہ ناجائز ہے اس لیے اگر ان  محلہ کے لوگوں سے قطع تعلقی کرنے کی صورت میں ان کو اور دیگر لوگوں کو  عبرت ہونے اور توبہ کرنے کی امید ہو تو اس صورت میں ان سے قطع تعلقی کر لینی چاہیے؛ تاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں، باقی مذکورہ فعل کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کے لیے شریعت میں کوئی مخصوص سزا نہیں ہے۔

"فتح الباری" میں ہے:

"(قوله: باب ما يجوز من الهجران لمن عصى )

 أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز؛ لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع، فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها".

(فتح الباری،10/497،ط:دارالمعرفة بیروت) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101474

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں