بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پی ایف فنڈ کا حکم


سوال

کیا پی ایف رقم پر مجوزہ سود لینا جائز ہے؟ جس کی شکل کچھ یوں ہوتی ہے کہ ملازم کی تنخواہ کا کچھ حصہ روک لیا جاتا ہے، اور اسی بقدر اس میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اب جو رقم بنتی ہے اس میں سود دیا جاتا ہے۔ مثلاً: زید کی تنخواہ ایک ہزار روپے ہے، ہر ماہ اس کو 880 روپیے دے دیے جاتے ہیں، باقی 120 روپیہ کمپنی روک لیتی ہے، پھر اسی بقیہ میں اسی قدر یعنی 120 روپیہ کا مزید اضافہ کردیا جاتا ہے۔ مزید اب موجودہ رقم پر سود دیا جاتا ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں پراویڈنٹ فنڈ جس کی کٹوتی ملازمین کی مرضی سے نہ ہوتی ہو اس کی اصل رقم بمع اضافی رقم کے لینا جائز ہے۔ اور جہاں کٹوتی اختیاری ہو وہاں بنام سود   ملنے والی رقم از روئے احتیاط نہ لی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں