بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1441ھ- 05 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کی تراویح کا حکم


سوال

بعض علاقوں میں حفاظ اپنےگھروں میں مستورات میں تراویح کا اہتمام کرتے ہیں، کچھ حد تک پردے کا اہتمام ہوتا ہے, یہ چند سالوں سے عروج پر ہے، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

اگر مرد گھر میں تراویح کی امامت کرے اور اس کے پیچھے کچھ مرد ہوں اور گھر کی ہی کچھ عورتیں پردے میں اس کی اقتدا میں ہوں، باہر سے عورتیں نہ آتی ہوں، اور امام عورتوں کی امامت کی نیت کرے تو یہ نماز شرعاً درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ عورتیں مردوں کی صفوں سے پیچھے صف بنائیں گی۔

اوراگر امام تنہا ہو اور مقتدی سب گھر کی عورتیں ہوں اور عورتوں میں امام کی کوئی محرم خاتون بھی موجود ہو ، امام عورتوں کی امامت کی نیت بھی  کرے  تو اس صورت میں بھی تراویح درست ہے، امام کی نامحرم خواتین پردہ کا اہتمام کرکے شریک ہوں ۔

اوراگر امام تنہا (مرد) ہو اور مقتدی سب عورتیں ہوں اور عورتوں میں امام کی کوئی محرم خاتون یا بیوی نہ ہو، یا جماعت میں مرد بھی ہوں، لیکن عورتیں باقاعدہ اہتمام سے باہر سے آتی ہوں تو ایسی صورتوں میں امام کے لیے عورتوں کی امامت کرنا مکروہ ہوگا، لہٰذا ایسی صورت سے اجتناب کیا جائے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی نماز کو گھر اور گھر میں بھی اندرونی حصہ میں نماز پڑھنے کو مسجد نبوی کی جماعت میں شرکت سے بھی افضل قرار دیا ہے؛ اس لیے عورتوں کے لیے یہی حکم ہے کہ فرض نمازوں کی طرح تراویح بھی گھر ہی میں ادا کریں۔

"فتاوی شامی"میں ہے:

"تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره، بحر". (1/ 566 ، باب الإمامة، ط: سعید)

"ويكره حضورهن الجماعة ولو لجمعة و عيد و وعظ مطلقاً ولو عجوزاً ليلاً علي المفتی به؛ لفساد الزمان". ( كتاب الصلاة، باب الامامة ١/ ٥٦٦، ط: سعيد) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں