بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا تین دن، دس دن، چالیس دن، تین ماہ کے لیے تبلیغ میں جانے کا حکم


سوال

 کیا عورتیں  تین دن، دس دن، چالیس دن ، تین مہینے کے لیے اپنے بھائی یا شوہر کے ساتھ تبلیغ کے لیے جاسکتی ہیں؟

جواب

مستورات کی تبلیغی جماعتیں نکالنا شرعی و فقہی اعتبار سے درست نہیں ، البتہ خواتین کی اصلاح اور دینی تربیت کے لیے علاقہ کے کسی گھر میں باپردہ اہتمام کے ساتھ مستند متدین عالم کی وعظ و نصیحت کی مجلس رکھی جا سکتی ہے،  جس میں خواتین شرکت کرسکتی ہیں، اور ایسا کرنا خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہے۔

قرآنِ  کریم میں عورتوں کو بلا ضرورتِ  شدیدہ گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کے لیے نبی کریم ﷺ نے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر قراردیا،  نبی کریم ﷺ سے جب عورتوں نے مردوں کی جہاد میں شرکت اور فضائل حاصل کرنے اور ان فضائل کو حاصل کرنے کی تمنا ظاہر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو گھر میں بیٹھی رہے وہ مجاہد کا اجر پائے گی۔    

ارشاد باری تعالی ہے:

"{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}." [الأحزاب : 33]

ترجمہ:" تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔"(بیان القرآن)

تفسير ابن كثير میں ہے:

"وقوله:{ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ }أي: الزمن بيوتكن فلا (1) تخرجن لغير حاجة. ومن الحوائج الشرعية الصلاة في المسجد بشرطه، كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، وليخرجن وهن تَفِلات" وفي رواية: "وبيوتهن خير لهن".

وقال الحافظ أبو بكر البزار: حدثنا حميد بن مَسْعَدة حدثنا أبو رجاء الكلبي، روح بن المسيب ثقة، حدثنا ثابت البناني  عن أنس، رضي الله عنه، قال: جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن: يا رسول الله، ذهب الرجال بالفضل والجهاد في سبيل الله تعالى، فما لنا عمل ندرك به عمل المجاهدين في سبيل الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قعد -أو كلمة نحوها -منكن في بيتها فإنها تدرك عمل المجاهدين  في سبيل الله".

ثم قال: لا نعلم رواه عن ثابت إلا روح بن المسيب، وهو رجل من أهل البصرة مشهور .

وقال  البزار أيضا: حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن مُوَرِّق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان، وأقرب ما تكون بروْحَة ربها وهي في قَعْر بيتها".

ورواه الترمذي، عن بُنْدَار، عن عمرو بن عاصم، به نحوه.

وروى البزار بإسناده المتقدم، وأبو داود أيضاً، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "صلاة المرأة في مَخْدعِها أفضل من صلاتها في بيتها، وصلاتها في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها" وهذا إسناد جيد".

(ج:6، ص:409، ط:دار طيبة)

صحيح بخاری میں ہے:

"قال عطاء: أشهد على ابن عباس: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ومعه بلال، فظن أنه لم يسمع فوعظهن وأمرهن بالصدقة، فجعلت المرأة تلقي القرط والخاتم، وبلال يأخذ في طرف ثوبه ".

(کتاب العلم ،باب عظة الإمام النساء وتعليمهن، ج:1، ص:31، ط:دار طوق النجاۃ)

فتاوی رحیمیہ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:

"عورتوں کو جماعت میں لے جانا مطلوب اور پسندیدہ نہیں ہے، اور  واثمہا اکبر من نفعہما کا مصداق ہے، عورتیں غیر محتاط ہوتی ہیں۔"

(حقوق و معاشرت،ج:3،ص: 254،ط:دار الاشاعت)

احسن الفتاوی میں ایک تفصیلی فتویٰ کے تحت لکھا ہے:

"حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ کے مطلقاً حرمت کے فیصلے میں ضرورت ِ شرعیہ سے کچھ گنجائش تلاش کرنے کی سعی مذکور کے باوجود خواتین کے لئے تبلیغی جماعت میں نکلنے کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں نکل سکی۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:8،ص:61،ط:سعید)

  فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100181

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں