بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عوتوں کا تفریح کے لیے باہر جانا


سوال

 کیا لڑکی کا اپنی سہیلیوں کے ساتھ دن کے وقت حجاب کی پابندی کرتے ہوئے کہیں سیر و تفریح کے  لیے جانا جائز ہے؟مثلًا  کہیں کسی جگہ کھانا کھانا یا ساتھ شاپنگ کرنے جانا،  کیا یہ سب ناجائز ہے؟اگر ہے تو لڑکی تفریح کیسے کرے  اپنی سہیلیوں کے  ساتھ؛  کیوں کہ کسی کے گھر جمع ہونے میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ گھر میں بھائی ہوتے ہیں!

جواب

   موجودہ ماحول میں عورت کے لیے گھر سے  باہر نکلنے  میں بہت سے  مفاسد وخرابیاں  اور  اَحکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، شریعت  نےصرف شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیےعورتوں کو  گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن وہ بھی اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ عورت مکمل پردے کی حالت میں ہو، اور چادر یا برقع بھی ایسا ہو جو پورے بدن کو چھپاتا ہو، دیدہ زیب ونقش ونگار والا، زرق برق، نظروں کو خِیرہ کردینے والا نہ ہونیز اگر مسافت سفر کے بقدر کہیں جانا ہو تو محرم کا ساتھ ہونا بھی شرط ہے بغیر محرم کے نکلنا اس صورت میں جائز نہیں ہے؛ لہذا صورتِ  مسئولہ میں لڑکیوں  کے لیے اپنےگھر  والوں  اور  محارم کے ساتھ  ضرورت کے وقت باہر آنےجانے   کی تو  گنجائش ہے؛  لیکن صرف لڑکیوں کا تنہا اس طرح کہیں جانا بہت سارے مفاسد کے  خدشے  کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔ بوقتِ ضرورت جس گھر میں پردے کا مکمل اہتمام ہو  وہاں کھانا کھاسکتی ہیں، اور جہاں پردے کا اہتمام نہ ہو وہاں اجازت نہیں ہوگی۔ 

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجاهِلِيَّةِ الْأُولى وَأَقِمْنَ الصَّلاةَ وَآتِينَ الزَّكاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ."(الاحزاب: 33)

ترجمہ:"اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کا کہنا مانو۔"

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان."

(ابواب الرضاع جلد 3 ص: 468 ط: شرکة مکتبة و مطبعة مصطفي البابي الحلبي ۔ مصر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144411100899

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں