بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت كے ذمہ علم آگے پہنچانے کی حیثیت


سوال

کیا عورتوں سے آخرت میں پوچھا جائے گا کہ آپ نے جو علم حاصل کیا ہے اُس کو دوسروں تک کیوں نہیں پہنچایا؟

جواب

واضح رہے کہ بنیادی اور ضروری علمِ دین (یعنی جس وقت جو حکمِ الٰہی متوجہ ہو اس کا علم) حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے، اسی طرح اس علم کے مقتضیٰ پر عمل کرنا بھی لازم ہے، اور بوقتِ ضرورت موقع و محل دیکھ کر اپنی استطاعت کے مطابق خیر و بھلائی کی تلقین کرنا اور برائیوں سے دوسروں کو روکنا اور اسلامی تربیت اور اصلاح کی کوشش کرتے رہنا بھی ضروری ہے،  لیکن ملحوظ رہے کہ عورت کے لئے  علم دین کی اشاعت اور پہنچانے کے لئے  کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ  باقاعدہ درس گاہ میں بیٹھ کر شاگردوں کو پڑھائے، اور مدرسہ میں معلمہ کی خدمات انجام دے،یا اپنے گھر سے نکل کر لوگوں  کے پاس اپنا علم پہنچانے جائے اور دین کی تبلیغ کرے اور نہ عورت سے اس کے بارے قیامت میں باز پرس ہوگی،ہاں البتہ ایک عورت کے پاس دینی تعلیم و تربیت کے لیے بہت وسیع میدان موجود ہے، ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مدرسہ ہوتی ہے، اپنے بچوں کی صحیح تربیت، ان کے کردار، اخلاق، اطوار کی اصلاح،  ان کو دینِ اسلام سے متعلق بنیادی آگاہی،اس کے ساتھ  ازدواجی زندگی میں شریعت پر عمل، شوہر کی فرماں برداری اور خدمت کو شعار بنالے،  اپنی سہیلیوں، ارد گرد کی خواتین اور پڑوس کی بچیوں کی اسلامی تربیت اور تعلیم کی کوشش کرتی رہے، اگر قریب میں اپنے ہم وطن اور ہم زبان لوگ آباد ہیں تو اپنے گھر میں ہی چھوٹے بچوں اور بچیوں کے لیے قرآنِ پاک پڑھانے اور بنیادی دینی مسائل کی تعلیم اور  تربیت کا نظم بنالے  یہ عورت کے لیے اپنا علم دوسروں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ،  بلکہ اس کی ذمہ داری ہے۔

 ارشاد باری تعالی ہے:

"{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}." [الأحزاب : 33]

ترجمہ:" تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔"(بیان القرآن)

حدیث مبارک میں ہے:

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ آپﷺ  نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے،  جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے(اور راستہ پر گزرتے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتاہے)۔"

( سنن الترمذی، باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات، رقم الحدیث:1172، ج:3، ص:467، ط:مطبعۃ مصطفی الحلبی)

’’ أحکام القرآن للفقیه المفسر العلامة محمد شفیع رحمه اللّٰہ ‘‘ میں ہے:

"قال تعالی : {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی}  [الأحزاب :۳۳]فدلت الآیة علی أن الأصل في حقهن الحجاب بالبیوت والقرار بها ، ولکن یستثنی منه مواضع الضرورة فیکتفی فیها الحجاب بالبراقع والجلابیب ... فعلم أن حکم الآیة قرارهن في البیوت إلا لمواضع الضرورة الدینیة کالحج والعمرة بالنص ، أو الدنیویة کعیادة قرابتها وزیارتهم أو احتیاج إلی النفقة وأمثالهابالقیاس، نعم! لا تخرج عند الضرورة أیضًا متبرجةّ بزینة تبرج الجاهلیة الأولی، بل في ثیاب بذلة متسترة بالبرقع أو الجلباب ، غیر متعطرة ولامتزاحمة في جموع الرجال؛ فلا یجوز لهن الخروج من بیوتهن إلا عند الضرورة بقدر الضرورة مع اهتمام التستر والاحتجاب کل الاهتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع". 

(۳/۳۱۷ – ۳۱۹ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں