بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے پاؤں مٰیں پازیب پہننا


سوال

کیاعورت پاؤں میں سونے کا یا اورکوئی زیورجیساپازیب وغیرہ پہن سکتی ہے یانہیں؟

جواب

سونے چاندی کاہرقسم کازیورزینت کے لیے پہنناعورت کوجائزہے،البتہ وہ زیورجس کوپہن کرچلنے سے آوازنکلتی ہواورفتنے کااندیشہ ہوتواس کااستعمال جائزنہیں،اگرپازیب کی بناوٹ ایسی ہے کہ اسے پہن کرباہرنکلنے اورچلنے سے جھنکارکی آوازموجودہوتی ہے تواس کا استعمال درست نہیں ۔البتہ ایسے پازیب جوسونے چاندی سے بنے ہوں اورایسی کوئی شئی ان میں نہ جڑی ہوجس سے جھنکارکی آوازپیداہوتی ہواورنہ ہی چلتے وقت ان پرغیرمردوں کی نگاہ پڑنے کااندیشہ ہوتوایسے پازیب کاپہننادرست ہے ۔قرآن کریم میں ہے:[سورہ نور:31].ولایضربن بارجلھن لیعلم مایخفین من زینتھنترجمہ:اورنہ ماریں زمین پراپنے پاؤں کوکہ جاناجائے جوچھپاتی ہیں اپناسنگھار۔(تفسیرعثمانی)حدیث شریف میں ہے:حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ایک چھوٹی لڑکی لائی گئی،جوگھنگروپہنے ہوئےتھی اوروہ بج رہے تھے،حضرت عائشہؓ نے (اس لڑکی کولانے والی عورت سے فرمایا)اس لڑکی کومیرے پاس اس وقت تک نہ لایاجائے جب تک کہ ان گھنگرؤں کوکاٹ کرپھینک نہ دیاجائے،کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اس گھرمیں (رحمت کے)فرشتے داخل [مشکوۃ،مظاہرحق،کتاب اللباس،4/189،ط:دارلاشاعت]نہیں ہوتے جس میں باجے کی قسم کی کوئی چیزہوتی ہے۔اس حدیث کوذکرکرکے حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں:حدیث صراحۃً اس پردال ہے کہ جن زیوروں میں خودباجہ ہے اس کاپہننابڑی عورت اورلڑکیوں کوسب کوناجائزہے۔اورآیت بعدتامل اس پردال ہے کہ جن زیوروں میں خودباجہ نہ ہومگردوسرے زیورسے لگ کربجتے ہوں ان کاپہننادرست ہے مگران کوپہن کرایسی طرح چلناکہ لگ کرآوازدیں یہ درست نہیں۔[امدادالفتاویٰ،4/137،ط:دارالعلوم کراچی]اسی طرح حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک بچی لائی گئی جس کے پاؤں میں گھنگروتھے ،آپؓ نے انہیں کاٹ ڈالااورفرمایاکہ:میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ہربجنے والی چیزکے ساتھ شیطان ہوتاہے۔[حوالہ بالا]فقط واللہ اعلم۔مفتی کفایت اللہ ؒ لکھتے ہیں:حاصل یہ کہ کان میں ہاتھوں میں پاؤں میں گلے میں زیورپہنناشرعاًجائزہے اورعورتوں کوچونکہ قدرتی اورفطری طورپرزینت کی ضرورت ہے اس لئے شریعت نے ان کے لئے چاندی سونے کے زیورکی بھی اجازت دی ہے..............زینت سے زینت دینے والی پوشیدہ چیزیں مرادہیں،جیسے پاؤں میں خلخال(پازیب)اورمیندھی کارنگ اورہاتھ میں کنگن اورکان میں بالیاں اورگلے میں .ہارکہ عورت کوان چیزوں کانامحرم پرظاہرکرناجائزنہیں.[182ص:/9ج:]


فتوی نمبر : 143604200006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے