بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

عورت کے اعتکاف کا طریقہ


سوال

عورت کے اعتکاف کا طریقہ کیا ہے اور نیت کیا کرنی ہوتی ہے ؟

جواب

عورتوں کے لیے بھی اعتکاف کرنا سنت ہے اور ثواب کا باعث ہے،عورتوں کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کریں،   یہی ان کے لیے  بہتر ہے  اور گھر کی مسجد سے مراد  وہ جگہ ہے  جسے گھر میں نماز ، ذکر،  تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے  متعین کرلیا گیا ہو،  اگر گھر میں عبادت کے لیے پہلے سے خاص جگہ متعین نہیں ہے  تو اعتکاف کے لیے گھر کے کسی کونے یا خاص حصے میں چادر یا بستر وغیرہ ڈال کر ایک جگہ مختص کرلی جائے،  پھر اس جگہ اعتکاف کیاجائے۔اور عورتوں کے لیے گھر کی مسجد  بالکل اسی طرح ہے  جس طرح مردوں کے لیے مسجد  کا  حکم  ہے۔اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہوگا۔

 عورت اعتکاف کی جگہ سے باہر  کھانے پکانے یا گھر کے کام کاج کے لیے نہیں نکل سکتی، اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔اگر اس کو باہر سے اس کے اپنے لیے  کوئی کھانا لاکر دینے والا نہیں ہے تو یہ باہر کھانا اٹھانے کے لیے جاسکتی ہے، کھانا اٹھاکر فوراً اندر آجائے ، باہر نہ رکے، ورنہ اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔البتہ عورت  اپنی اعتکاف گاہ کے اندر  رہ کر گھر کے کام کاج (مثلاً آٹا گوندھنا، کھاناپکانا، کپڑے دھونا وغیرہ) سرانجام دے سکتی ہے،  لیکن بہتر یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ان کاموں کے لیے کوئی متبادل انتظام کرلے؛ تاکہ پوری یک سوئی کے ساتھ یہ عبادت اپنی روح اور مقصد کے ساتھ ادا ہوجائے۔

اعتکاف کی نیت یہی ہے کہ اعتکاف کے ارادے سے عبادت کے لیے  مخصوص جگہ دس دن کے لیے بیٹھ جائے۔اور زبان سے یہ کہہ دیاجائے کہ میں دس دن کے مسنون اعتکاف کی نیت کرتی ہوں تو یہ بہتر ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 113):

"و أما المرأة فذكر في الأصل: أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها، ولا تعتكف في مسجد جماعة، وروى الحسن عن أبي حنيفة أن للمرأة أن تعتكف في مسجد الجماعة، وإن شاءت اعتكفت في مسجد بيتها، ومسجد بيتها أفضل لها من مسجد حيها، ومسجد حيها أفضل لها من المسجد الأعظم، وهذا لايوجب اختلاف الروايات، بل يجوز اعتكافها في مسجد الجماعة على الروايتين جميعاً بلا خلاف بين أصحابنا، والمذكور في الأصل محمول على نفي الفضيلة لا على نفي الجواز توفيقاً بين الروايتين، وهذا عندنا."

المبسوط للسرخسي (3/ 119):

" (قال): ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها، وقال الشافعي - رحمه الله تعالى -: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة، الرجال والنساء فيه سواء، قال: لأن مسجد البيت ليس له حكم المسجد ؛ بدليل جواز بيعه، والنوم فيه للجنب والحائض، وهذا؛ لأن المقصود تعظيم البقعة، فيختص ببقعة معظمه شرعاً، وذلك لا يوجد في مساجد البيوت.
(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل، كما في حق الرجال، وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي صلى الله عليه وسلم لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة؟ فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة»."

الفتاوى الهندية (1/ 211):

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها، إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لاتخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں