بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے عورت دوسرا نکاح کرلے


سوال

بیوی شوہر کو بتاے بغیر دوسری شادی کرلے تو کیا مسئلہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر عورت کسی کے نکاح یا عدت میں ہو اور وہ نکاح کرلے تو یہ نکاح ناجائز اور حرام ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی بیوی سے نکاح کر لیتا ہے  تو  اس صورت میں اس شخص کا اس عورت کے ساتھ نکاح باطل  ہے؛ کیوں کہ  عورت کا بیک وقت دوسرا  نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، ایسی صورت میں دونوں پر  فورًا علیحدگی لازم ہے اور صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی لازم ہے۔ یہ عورت پہلے شوہر ہی کی بیوی ہے۔ البتہ اگر دوسرے شخص نے جسمانی تعلق قائم کیا ہو تو ایک مرتبہ ایام آنے تک شوہر کو قربت نہیں کرنی چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 132):
"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لايوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلاً". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200536

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں