بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کا دورنگہ لباس پہننا


سوال

عورت کا رنگ برنگ لباس (یعنی شلوار اور دوپٹہ ایک رنگ کا ہو اور قمیص دوسرے رنگ کا ہو یا دوپٹہ اور قمیص ایک رنگ کا ہو اور شلوار دوسرے رنگ کی ہو) پہنناشریعت اور علماء کے رائے کے مطابق کیسا ہے

جواب

واضح رہے کہ  شریعت نے عورت کے لیے لباس تو متعین نہیں کیا، البتہ اس کے اصول متعین کردیے ہیں، جن کی بنیاد یہ ہے کہ:

1- لباس ساتر ہو، یعنی جسم کے جس حصے کو چھپانا لازم ہے، اس حصے اور اس کی بناوٹ کو  چھپالے۔

2- اجنبی کے لیے جاذبِ نظر نہ ہو۔

3- غیر اقوام یا مردوں کی مشابہت نہ ہو۔

لہذا صورت مسئولہ میں عورت کے لیے مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے دورنگہ لباس پہننے کی اجازت ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: لعن ‌المتشبهات من النساء بالرجال، والمتشبهين من الرجال بالنساء."

(کتاب اللباس ، باب فی لباس النساء جلد 6 ص: 194 ط: دارالرسالة العالمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وإن كان على المرأة ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدها وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بها بحيث تصف ما تحتها، ولم يكن رقيقا بحيث يصف ما تحته، فإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره اهـ.

وفي التبيين قالوا: ولا بأس بالتأمل في جسدها وعليها ثياب ما لم يكن ثوب يبين حجمها، فلا ينظر إليه حينئذ لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من تأمل خلف امرأة ورأى ثيابها حتى تبين له حجم عظامها لم يرح رائحة الجنة» ولأنه متى لم يصف ثيابها ما تحتها من جسدها يكون ناظرا إلى ثيابها وقامتها دون أعضائها فصار كما إذا نظر إلى خيمة هي فيها ومتى كان يصف يكون ناظرا إلى أعضائها اهـ. أقول: مفاده أن رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا ترى البشرة منه."

(کتاب الحظر و الاباحة  , فصل فی النظر و اللمس جلد 6 ص: 365 , 366 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144407100597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں