بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کا بلامحرم تعلیم کے لیے سفر کرنا


سوال

میری بہن نے قریبی کالج سے ایف اے کیا ہے ، اب وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے جس کے لیے اس کو ملتان شہر جانے کی ضرورت ہے ،جو کہ ہم سے  100 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے، تو اب اس کو وہاں اکیلے   آناجانا پڑے گا اور وہاں ہوسٹل میں بھی  اکیلے رہنا  پڑے گا ،تو کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے کہ وہ یہ سفر (100 کلو میٹر) اکیلے کرے اور وہاں ہوسٹل میں رہے؟ اور اگر شریعت میں اس کی گنجائش نہیں ہے تو اس کا کیا حل ہو گا ؟

جواب

 واضح رہے کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سوا ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ مسافت سفر جائز نہیں، حدیث شریف  میں  اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ البتہ سفر شرعی سفر  سے کم مسافت کے سفر میں اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اکیلے سفر کی گنجائش ہے۔ 

لہذا صورت مسئولہ میں  سائل کی بہن  کا اکیلے محرم کے بغیرتعلیم کے حصول کے لیے 100 کلومیٹر کا  سفر کرناشرعاً جائز نہیں ہے،  البتہ جائز صورت یہ ہے کہ کسی محرم کے ساتھ سفر کرے اور پردہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرے، اور اگر ہوسٹل میں رہنا پڑے تو اس میں بھی محرم کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

{ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 33]

ترجمہ:’’ اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکاۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔‘‘ (بیان القرآن)

حدیث میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»."

(الصحیح المسلم،‌‌كتاب الحج،باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره،975/2، الرقم:1338،ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایات ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر  کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔‘‘

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لايخلونّ رجل بامرأة، ولا تسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك»."

(صحيح البخاري،كتاب الجهاد والسير،باب: من اكتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة، وكان له عذر، هل يؤذن له،1094/3،ط:دار ابن كثير، دار اليمامة)

ترجمہ:  ’’عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرمارہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت  بغیر محرم کے سفر کرے، تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول!  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں