بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اورل سیکس اور اس کا حکم


سوال

”اورل سیکس“  کسے   کہتے  ہیں اور اس کا کیا حکم ہے؟  میرے ایک دوست ہیں جو دبئی میں رہتے ہیں،  وہ کہتے ہیں کہ:  دیوبندیوں  کے علاوہ باقی سب مذاہب  اس کی اجازت دیتے ہیں  !

جواب

”اورل سیکس“  کا مطلب یہ ہے کہ مرد وعورت کا ایک دوسرے کی شرمگاہ چاٹنا ،اور یہ عمل میاں بیوی کے درمیان بھی غیرشریفانہ اورغیرمہذب عمل ہے،میاں بیوی کاایک دوسرے کی شرمگاہ کودیکھنابھی غیرمناسب ہے اورنسیان کی بیماری کاسبب بنتاہے ، لہذااس سے حترازکرنا ضروری ہے۔

حدیث شریف میں ہے،    ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:

" ما نظرت أو مارأیت فرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قط."

[سنن ابن ماجہ:138،ابواب النکاح،ط:قدیمی]

ترجمه : "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سترکی طرف کبھی نظرنہیں اٹھائی،یایہ فرمایاکہ میں نے اآپ صلی اللہ علیہ وسلم کاسترکبھی نہیں دیکھا۔"

اس حدیث کے ذیل صاحبِ  مظاہرِ حق  علامہ قطب الدین دہلویؒ  لکھتے  ہیں:

"ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہ الفاظ ہیں کہ :نہ تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میراسترکبھی دیکھا اور نہ کبھی میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاستردیکھا، ان روایتوں سے معلوم ہواکہ اگرچہ شوہراوربیوی ایک دوسرے کاستردیکھ سکتے ہیں،  لیکن آداب زندگی اورشرم وحیاء کاانتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہراوربیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کاسترنہ دیکھیں۔"

[مظاہرحق،3/262،ط:دارالاشاعت کراچی]

نيز ایک اور  حدیث میں  ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد  فرماتے ہیں:

"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله فليستتر، و لايتجرد تجرد العيرين»."

[سنن ابن ماجه : ابواب النکاح،ص:138،ط:قدیمی کراچی]

ترجمه :"جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے توپردے کرے،اورگدھوں کی طرح ننگانہ ہو۔(یعنی بالکل برہنہ نہ ہو)"

مفتی عبدالرحیم لاجپوریؒ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریرفرماتے ہیں:

"بے شک شرم گاہ کاظاہری حصہ پاک ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہرپاک چیزکومنہ لگایاجائے اورمنہ میں لیاجائے اورچاٹاجائے، ناک کی رطوبت پاک ہے توکیاناک کے اندرونی حصے کوزبان لگانا،اس کی رطوبت کومنہ میں لیناپسندیدہ چیزہوسکتی ہے؟توکیااس کوچومنے کی اجازت ہوگی؟نہیں ہرگزنہیں،اسی طرح عورت کی شرم گاہ کوچومنے اورزبان لگانے کی اجازت نہیں،سخت مکروہ اورگناہ ہے۔ غور کیجیے! جس منہ سے پاک کلمہ پڑھاجاتاہے،قرآن مجیدکی تلاوت کی جاتی ہے،درودشریف پڑھاجاتاہے اس کوایسے خسیس کام میں استعمال کرنے کودل  کیسے گوارا کرسکتاہے؟"

[فتاویٰ رحیمیہ،10/178،ط:دارالاشاعت کراچی]

نیز مذکورہ غیر شائستہ حرکت سے صرف علماءِ دیوبند نہیں روکتے، بلکہ فتاویٰ ہندیہ اور  محیط برہانی جیسی کتابیں، جو  دار العلوم  دیوبند  کی بنیاد رکھنے سے بہت پہلے لکھی جاچکی تھیں، ان میں بھی ایک قول ان کے ناجائز (مکروہِ تحریمی) ہونے کا لکھا ہے، اور شام کے مشہور محقق عالم دکتور وہبہ زحیلی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف "الفقہ الاسلامی و ادلتہ"  میں اسے  حرام لکھا ہے، اور مغرب سے درآمد شدہ، حیا باختہ حرکت قرار دیا ہے۔

شریعت کا مسئلہ یہی ہے باقی اگر کوئی اس کی بُرائی کا قائل نہیں ہے تو  اللہ  کے ہاں وہی اس کا جواب دہ ہے ،نيز  اگر کوئی اس کی اجازت دیتا بھی ہے، تب بھی یہ ایسی چیز ہے کہ اس کی برائی کسی سلیم الفطرت آدمی سے پوشیدہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں