بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کے پاس رقم نہ ہونے کی صورت میں 8 تولہ سونے کی زکات ادا کرنے کی صورت اور شرعی حکم


سوال

 میری شادی کو مارچ میں 1 سال ہوگا، میرے والد نے مجھے تقریباً 6 تولہ سونا دیا تھا اور سسرال والوں نے 2 تولا سونادیا تھا ، اب میرے پاس زکات کے پیسے نہیں ہیں، اگر میں سونا بیچ کر بھی زکات دوں تو وہ ساڑھے سات تولہ سے کم ہوجائےگا، میرے شوہر کی آمدن بھی اتنی زیادہ نہیں ہے، اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے پاس بقدرِ نصاب یعنی آٹھ تولہ سونا موجود ہے،اس لیے اگر کوئی قرض وغیرہ نہ ہو تو سال مکمل  ہونے پر زکات ادا کرنا واجب ہے،مقررہ وقت آنے تک زکات کی ادائیگی کے لیے رقم کا انتظام  کرلینا چاہیے، نیززکاۃ پیسوں میں دینا ضروری نہیں ہے، سونے کی زکات سونے سے بھی  ادا کی جاسکتی ہے، لہذا 8تولہ سونے میں واجب مقدار 2 گرام 332 ملی گرام سونا بطورِ زکات کسی غریب مستحقِ زکاۃ کودے جاسکتی ہے،اور اگر چاہے تو سونے کی کوئی چھوٹی چیز فروخت کردے،اور ان کے پیسوں سے زکات ادا کردی جائے، باقی سونے کی مذکورہ مقدار پر سال مکمل ہونے پر زکاۃ واجب ہوجائے تو اس کی ادائیگی بہرصورت سائلہ پر لازم ہوگی،شوہر کو بیوی کی زکات ادا کرنے پر مجبور نہیں کیاجائےگا،البتہ اگر وہ خود اپنی مرضی سے عورت کی اجازت سے زکاۃ ادا کردے عورت کی زکات ادا ہوجائےگی۔

باقی سائلہ کا یہ تردد کہ "سونا فروخت کرنے سے ساڑھے سات سونا نہیں رہے گا"کا اعتبار نہیں ہے، کیوں کہ بالفرض 8 تولہ میں واجب مقدار 2 گرام 332ملی گرام زکات کے طور پر کسی کو دیا جائے یا فروخت کیا جائےتب بھی سونا ساڑھے سات تولہ سے زائد ہی رہے گا،اور اگرسونے کی اتنی مقدار فروخت کی گئی کہ بقیہ سونے کی مقدار ساڑھے سات تولہ نہ رہے تو اس صورت میں فروخت شدہ سونے کی رقم اور بقیہ سونے کی مالیت لگا کردونوں کے مجموعہ کا ڈھائی فیصد زکات کے طور پر ادا کیا جائےگا۔نیز آئیندہ سالوں میں اگر سائلہ کے پاس سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہواور اس کے ساتھ نقدی، چاندی یا کوئی اور قابل زکوٰۃ مال نہ ہو تو صرف سونے پر جو نصاب سے کم ہو زکوۃ واجب نہیں ہوگی ۔

اگر سال پورا ہونے پر کسی بھی وجہ سے سائلہ فوری طور پر زکات ادا  نہ کرسکی تو جتنا جلد ممکن ہو، زکات کی ادائیگی کی ترتیب بنالے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:267، ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:271، ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"(و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة)."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:303، ط:سعيد)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:

"ذهب جمهور العلماء (الشافعية و الحنابلة و هو المفتى به عند الحنفية) إلى أن الزكاة متى وجبت، وجبت المبادرة بإخراجها على الفور، مع القدرة على ذلك و عدم الخشية من ضرر."

(كتاب الزكاة، القسم الثالث اخراج الزكاة، ج:23، ص:295، ط:مطابع دارالصفوة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144407101240

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں