بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1443ھ 16 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اونٹ میں سات حصے ہوتے ہیں


سوال

قربانی کے جانور اونٹ میں کتنے حصے ہوتے ہیں؟

جواب

اونٹ کی قربانی میں سات حصے ہوتے ہیں۔

حدیث میں ہے :

عن جابر بن عبد الله، قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة، والبقرة عن سبعة»

(صحیح مسلم، 2 / 995، دار احیاء التراث)

 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدبییہ والے سال سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے بھی ذبح کی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70) :

"و لايجوز بعير واحد و لا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، و يجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - و إن زادوا على سبعة -، و لايجزي عن أهل بيتين - و إن كانوا أقل من سبعة -، و الصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «البدنة تجزي عن سبعة و البقرة تجزي عن سبعة»۔ و عن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة و البقرة عن سبعة»، من غير فصل بين أهل بيت وبيتين؛ و لأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لايتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي؛ للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأنّ البقرة بمنزلة سبع شياه."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200405

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں