بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن تجارت کی دو صورتوں کا حکم


سوال

میں آن لائن کام کرتی ہوں، اس کا طرز عمل یہ ہے کہ بہت سے  دوکانوں سے ہمارا رابطہ ہے جو روز کی بنیاد پہ ہمیں اپنے سامان کی تصاویر بمع قیمت واٹس ایپ کے ذریعے بھیجتے ہیں، ہم ان آئٹمز پہ اپنا منافع رکھ کے آگے لڑکیوں( ریسیلر ) کو واٹس ایپ گروپ میں بھیجتے ہیں، وہ لڑکیاں اپنا منافع رکھ کے کسٹمر کو بھیجتی ہیں، جب کوئی آرڈر آتا ہے تو خریدلیتے ہیں، کسٹمر کو بھیجنے کے دو طریقے ہیں: یا تو ہم اس کی ایڈوانس پیمنٹ لے لیتے ہیں ، ریسلر کسٹمر سے پیمنٹ لے کے اپنا منافع رکھ کے باقی رقم مجھے منتقل کر دیتی ہے، اور میں اپنا منافع رکھ کے باقی رقم دوکان والے کو بھیج دیتی ہوں ۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوکان والا ڈیلیوری چارجز ایڈوانس لے کے پارسل کسٹمر کو بھیجتا ہے، اس سے رقم وصول کرتا ہے  اور ہمارا منا فع ہمیں بھیج دیتا ہے، جس میں سے میں اپنا پروفٹ رکھ کے باقی رقم ریسلر کو بھیج دیتی ہوں ،سوال مندرجہ ذیل ہیں:

کیا اپنی ملکیت میں لیے بغیر اس طرح ارسال کر سکتے ہیں کیوں کہ سب لوگ مختلف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ اوپر درج کیے گئے 2 طریقوں میں سے کونسا صحیح ہے؟ اگر ایڈوانس پیمنٹ نہ لیں تو کیا صرف ڈیلیوری چارجز لے سکتے ہیں؟ کیوں کہ بہت بار کسٹمر آرڈر کرکے پارسل نہیں لیتا، اس سے ہمارا نقصان ہوتا ہے اگر اپنی ملکیت میں لیے بغیر جائز نہیں ہے تو کس طرح کام کیا جائے؟ یہ ذہن میں رہے کہ ریسلر اور کسٹمر دونوں کے علم یہ بات ہوتی ہے کہ جو وہ آرڈر کر رہے ہیں وہ ہم نے ابھی خریدے نہیں ہے، آڑدر کنفرم ہونے کے بعد ہی خریدیں گے؟

جواب

 واضح رہے کہ  اگر مبیع بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے اور وہ محض اشتہار، تصویر دکھلاکر کسی کو وہ سامان فروخت کرتا ہو (یعنی سودا کرتے وقت یوں کہے کہ: "فلاں چیز میں نے آپ کو اتنے میں بیچی"، وغیرہ) اور بعد میں وہ سامان کسی اور دکان،اسٹوروغیرہ سے خرید کردیتا ہو تو یہ صورت بائع کی ملکیت یا قبضہ میں"مبیع" موجود نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ جو چیز فروخت کرنا مقصود ہو وہ بائع کی ملکیت یا وکیل کے قبضے میں ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے؛لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائل کا سوال میں مذکورہ دونوں طریقوں کے مطابق خریدوفروخت کرنا جائز نہیں ؛اس لیے کہ دونوں صورتوں میں مبیع بائع کی ملکیت میں موجود نہیں ہوتا ،تاہم اس کے جواز کی درج ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :

  1. آپ  بیع نہ کریں ،بلکہ وعدہ بیع کریں اور سامان جب آپ کی ملکیت میں پہنچ جائیں تو  مشتری (خریدار)سے یہ کہہ دیں  کہ یہ چیز اگر آپ مجھ سے خریدیں گے تو  میں آپ کو اتنے کی دوں  گی۔
  2. آپ ایک فرد (مشتری) سے آرڈر  لیں اورمطلوبہ چیز  کسی دوسرے فرد یا کمپنی سے لے کر خریدار تک پہنچائیں اور اس عمل کی اُجرت مقرر کرکے لیں  تو یہ بھی جائز ہے، یعنی بجائے اشیاء کی خرید وفروخت کے بروکری کی اُجرت مقرر کرکے یہ معاملہ  کریں۔
  3.  جہاں سےآپ   سامان  خریدرہے ہیں ، وہاں کسی فرد  کو یا مال بردار کمپنی کو مال پر قبضہ کا وکیل بنادیں، اس کے قبضے کے بعد بیع جائز ہے۔

واضح رہے  بائع کا مشتری سے ایڈوانس رقم لینا شرعاً جائز ہے ۔اور ڈیلیوری چارجز کی وصولی میں یہ تفصیل ہے کہ اگر دونوں کے درمیان معاہدہ ہوا ہو کہ ڈیلیوری چارجز مشتری پر لازم ہوں گے یا بائع پر؟ تو اس صورت میں اس معاہدہ کی پاسداری دونوں پر شرعاً ضروری ہے اور اگر کو ئی معاہدہ نہیں ہوا ہو تو اس صورت میں مشتری سے ڈیلیوری چارجز کی مد میں رقم وصول کرنا شرعاً جائز ہے ۔

حدیث میں ہے :

"عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك ."

(سنن ابی داؤد،باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ،ج:5،ص:362،دارالرسالۃ العالمیۃ)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"الثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (‌لا ‌تبع ‌ما ‌ليس ‌عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد."

(باب المنہی عنہا من البیوع،ج:5،ص:1937،دارالفکر)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے :

"وأما نهيه عن بيع ما لم يقبض يعني في المنقولات، وأما نهيه عن بيع ما ليس عنده فهو أن يبيع ما ليس في ملكه، ثم ملكه بوجه من الوجوه فإنه لا يجوز إلا في السلم فإنه رخص فيه."

(کتاب البیوع ،باب البیع الفاسد،ج:1،ص:203،المطبعۃ الخیریۃ)

بدائع الصنائع میں ہے :

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح ‌بيعه ‌قبل ‌القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض."

(کتاب البیوع،باب فی شرائط الصحۃ فی البیوع،ج:5،ص:180،دارالکتب العلمیۃ)

مجمع الأنہر فی شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

" (ويجوز أن يضم إلى رأس المال أجرة القصارة والصبغ) سواء كان أسود أو غيره (والطراز) بكسر الطاء وبالراء المهملتين وآخره زاي: علم الثوب (والفتل) بفتح الفاء ما يصنع بأطراف الثياب بحرير أو كتان (والحمل) أي أجرة حمل المبيع من مكان إلى مكان برا أو بحرا (وسوق الغنم والسمسار) لأن العرف جار بإلحاق هذه الأشياء برأس المال في عادة التجار والأصل فيه أن كل ما يزيد في المبيع أو قيمته كالصبغ والحمل يلحق به وما لا فلا، وقيد بالأجرة لأنه لو فعل شيئا من ذلك بيده لا يضمه ."

(کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج:2،ص:75،داراحیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501102124

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں