بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو الحجة 1441ھ- 03 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

آن لائن تیل کی خرید و فروخت کے کاروبار کا حکم


سوال

عالمی منڈی میں تیل کاکاروبارکرناشرعاً  کیساہے؟جس میں اکاؤنٹ میں پیسے داخل کرکےتیل کی خریداری کی جاتی ہے اورپھرمنافع کی صورت میں فروخت کی جاتی ہے۔ یہاں تیل پرنہ حسی قبضہ ہوتا ہے اورنہ ہی تیل ملتا ہے، صرف رقم ملتی ہے۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کی رو سے تیل کی خرید و فروخت کا مذکورہ کاروبار کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ تیل خریدنے کے بعد قبضہ حاصل کیے بغیر اس کو آگے بیچنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، جب کہ مذکورہ کاروبار میں تیل خریدنے کے بعد قبضہ نہیں دیا جاتا ہے، بلکہ تیل کی خرید و فروخت کے بعد نرخ اوپر یا نیچے ہونے کی بنیاد پر صرف نفع اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جاتا ہے یا نقصان کی صورت میں اتنے پیسے اکاؤنٹ سے منہا کردیے جاتے ہیں؛ اس لیے اس طرح کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے۔

تاہم اگر تیل کی واقعۃً خرید و فروخت ہو، صرف قیمت بڑھنے یا گھٹنے کی بنیاد پر نفع یا نقصان کا تعین اور تقسیم نہ ہو،  اور کسی وکیل کے ذریعے قبضہ کروالیا جائے اور کوئی غیر شرعی معاملہ نہ ہو تو تیل کا کاروبار جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں