بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن گیمز کے کوئن حاصل کرنے کے لیے اجرت دے کر کسی شخص سے گیم کھلوانا


سوال

 اگر ایک آن لائن گیم ہو مثال کے طور 8 بال پول، ایک بندہ دوسرے بندے کو کہے کہ آپ ایک ہفتہ یہ گیم میرے لیے کھیلو یا اس کے کوائن بنا دو، میں تجھے پیسے دوں گا جس کا حساب معلوم ہو کہ ایک دن یا کوائن کے حساب پر اتنا پیسہ، یہ پیسے اس بندے کے لیے جائز ہے یا ناجائز حرام ہے یا حلال؟

جواب

واضح رهے كه  عقدِ اجاره (ملازمت/ کرایہ داری) جائز هونے کی من جملہ شرائط میں سے یہ بھی ہیں کہ اجارہ کسی معصیت یا لہو لعب کا نہ ہو، اور جس عمل پر عقد ہو وہ کوئی منفعتِ مقصودہ ہو، جب کہ آن لائن گیم  میں کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت نہیں ہے،  اور اس میں عمومًا جان دار کی تصاویر اور میوزک وغیرہ بھی پایا جاتا ہے، اور ان کے کھیلنے میں اس قدر غلو ہوتا ہے کہ شرعی فرائض میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہے، اور کوئن بنانا کوئی منفعتِ مقصودہ بھی نہیں ہے، اس لیے مذکورہ گیم اور اس جیسی دیگر گیمز لہو لعب میں شامل ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ معاملہ  کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کی آمدنی حلال نہیں ہوگی۔

الفتاوى الهندية (4 / 411):

"ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادًا استيفاؤها بعقد الإجارة ولايجري بها التعامل بين الناس فلايجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها."

المبسوط للسرخسي (16 / 38):

"ولاتجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو؛ لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعاً ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا، وكذلك الاستئجار على الحداء، وكذلك الاستئجار لقراءة الشعر؛ لأن هذا ليس من إجارة الناس والمعتبر في الإجارة عرف الناس، ولأن ما هو المقصود إنما يحصل بمضي في المستأجر وهو السماع والتأمل والتفهم فلا يكون ذلك موجبا للأجر عليه.

وإن أعطى المستأجر شيئًا من اللهو يلهو به فضاع، أو انكسر فلا ضمان عليه؛ لأنه قبضه واستعمله بإذن صاحبه فإن العقد، وإن بطل فالإذن في الاستعمال باق."

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144202200181

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں