بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن گیمز کی ارننگ کا حکم


سوال

 آن لائن گیمز سے حاصل ہونے والی ارننگ(کمائی) حلال ہے یا حرام ؟

جواب

واضح رہے کہ   عام طور سےگیمز  میوزک اور جان دار اشیاء کی  تصاویر پر مشتمل ہوتے ہیں اور اگر میوزک اور جاندار کی تصاویر نہ بھی ہوں، تب بھی اس میں وقت کا ضیاع ہے،عبث اور لایعنی کام ہے مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں سے اجتناب کرتاہے ۔حدیث شریف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے:

'' انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جو بے فائدہ ہے "۔

اس لیے  آن لائن گیمز کھیل کر اس سے ارننگ کرنا شرعاً جائز نہیں اور اس کی کمائی حلال نہیں ۔

البحر الرائق میں ہے :

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال: قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: ‌تصوير ‌صور ‌الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ. فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."

(باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ،ج:2،ص:29،دارالکتاب الاسلامی)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے :

"الإجارۃ علی المنافع المحرمة کالزنی والنوح والغناء والملاهی محرمة وعقدہا باطل لا یستحق به أجرۃ، ولا یجوز استئجار کاتب لیکتب له غناءا ونوحًا ، لأنه انتفاع بمحرم. وقال أبو حنیفة : یجوز ، ولا یجوز الاستئجار علی حمل الخمر لمن یشربها ، ولا علی حمل الخنزیر."

(کتاب الاجارۃ،الاجارۃ علی المعاصی ،ج:1،ص:290،دارالسلاسل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503100806

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں