بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اشتہارات کے ذریعہ کمائی کا حکم


سوال

ایک کمائی کا طریقہ ہے کہ جس میں زید پچاس ہزار روپے  کسی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کردیتا ہے اور روزانہ آن  لائن  پانچ اشتہارات دیکھنے ہوں گےاور اس دیکھنے سے اس کو منافع ملتا رہےگا۔سال گزرنے کے ساتھ ہی اصل مال ختم ہوجاتا ہے ،واپس نہیں ملتا۔ جس دن اشتہار نہ دیکھے اور یا پورے پانچ نہ دیکھے تو اس دن کا منافع نہیں ملتا اور اگر زید یہ پیسے نکالنا چاہے  تو پانچ چھ ماہ تک یہ پیسے نہیں نکال سکتا۔

جواب

آن لائن ایڈز کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے مختلف اشتہارات پر کلک کرنا پڑتا ہے اور ان کلک کے بدلہ آدمی کو معاوضہ ملتا ہے یہ  کمائی درج ذیل وجوہات کی بنا  پر ناجائز ہے:

1- اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔

2-  ان اشتہارات  میں  جان دار کی تصاویر بھی موجود ہوتی ہیں اور جان دار کی تصویر  کسی بھی طرح کی ہو اس کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔

3- ان اشتہارات میں  خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔

4- شریعت میں بلا محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور اپنی محنت کی کمائی حاصل کرنے کی ترغیب ہے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے۔

لہذا زید کے لیے آن لائن اشتہارات دیکھنے کے مشغلہ کو اپنے لیے کمائی کا ذریعہ بنانا درست نہیں ۔ 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202349

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں