بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اشتہارات کی ویڈیوز دیکھ کر پیسے کمانا


سوال

آن لائن ارننگ میں جو ویڈیوز دیکھ کر پیسےکماتے  ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

آن لائن ایڈز کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے اگر آپ کو مختلف اشتہارات پر کلک کرنا پڑتا ہے اور ان کلک کے بقدر آپ کو معاوضہ ملتا ہے تو یہ درج ذیل وجوہات کی بنا  پر ناجائز ہے:

(الف) اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکہ ہے۔

(ب) ان اشتہارات میں جان دار کی تصاویر بھی موجود ہوتی ہیں اور جان دار کی تصویر  کسی بھی طرح کی ہو اس کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔

(ج) ان اشتہارات میں  خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية  (1/ 290):

"الإجارة على ‌المنافع ‌المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة وعقدها باطل لا يستحق به أجرة. ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناء ونوحا؛ لأنه انتفاع بمحرم ۔۔۔ ولا يجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير."

(الإجارة، الإجارة على المعاصي والطاعات)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101775

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں