بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اسٹوڈنٹ کسی کو دےکر اس سے پیسے لینے کا حکم


سوال

آن لائن  اسٹوڈنٹ کسی کو دےکر اس سے پیسے لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پڑھانے کے لیے کسی کو اپنا شاگرد دینا اپنے پڑھانے کا محض دوسرے کوحق دینا ہے،اوریہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا خارج میں کوئی وجود ہو اور اس کی قیمت لگائی جائے،لہذا کسی کو اپنا  اسٹوڈنٹ، شاگرد دینےکےبدلےپیسے لیناجائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف۔۔۔.

مطلب: لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا."

(كتاب البيوع، ج: 4،ص: 518، ط:  سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144506100323

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں