بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

اولاد کو عطیہ کیے ہوئے زیورات پر زکاۃ کا حکم


سوال

میری والدہ نے میری چھوٹی بہن  کے  لیے کچھ زیورات بنوائے تھے جو کہ بہن کی شادی کے  لیے تھے اور میری والدہ کے الفاظ یہ تھے کہ میں نے یہ زیورات  اس بیٹی کو  وقف کر دیے ہیں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ زیورات کے وقف  کی شرعی شرائط کیا ہیں  اور  اس کی  زکوٰۃ کب  سے دینی ہو گی؟ کیوں کہ کسی نے بتایا ہے کی وقف کردینے والے زیورات کی شادی کے ہونے تک  زکات معاف ہے؟

جواب

صورتِ   مسئولہ میں جب آپ کی والدہ نے یہ کہا کہ یہ زیورات میں نے اپنی بیٹی کو وقف کر دیے اور اس سے مراد ان کی یہ زیورات اپنی بیٹی کی ملکیت میں دینے کی تھی،اور پھر باقاعدہ وہ زیورات انہوں نے اپنی بیٹی کے قبضے میں بھی دے  دیے تھے اور  وہ بیٹی بالغہ بھی تھی تو اس صورت میں ان زیورات پر اس بیٹی کی ملکیت آگئی ہے،  اور ان کے پاس ان زیورات کے علاوہ کچھ نقد رقم بھی ہو  اور  اس رقم اور زیورات کی مالیت کو ملا کر ساڑھے باون تولہ  چاندی کی قیمت کے برابر رقم  پہنچتی ہو  تو اس مال میں زکات  لازم ہوگی۔

اور اگر ان کے پاس ان زیورات کے علاوہ کوئی نقد رقم نہیں ہے تو  پھریہ دیکھنا ہوگا کہ یہ زیورات سونے کے  ہیں یا چاندی کے،اگر سونے کے ہیں تو اگر ساڑھے سات تولہ سونا ہو تو اس میں بھی ڈھائی فیصد زکاۃ لازم ہوگی،اور اگر ساڑھے  سات تولہ  سے کم  سونا ہے، اور اس کے علاوہ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت میں سے کچھ بھی پاس نہیں ہے تو   زکات لازم نہیں  ہوگی۔ اور  اگر  یہ زیورات چاندی کے ہیں تو  اگر ان کا وزن  ساڑھے باون تولہ  یا  اس سے زائد ہو تو اس پر بھی ڈھائی فیصد  زکات لازم ہوگی،اور اگر ساڑھے باون تولہ چاندی سے کم وزن ہو تو اس پر  زکات لازم نہیں ہوگی۔

اور   زکات کی رقم اس ہی بیٹی کے ذمے  میں لازم  ہوگی۔

لیکن اگر والدہ نے وقف کے الفاظ تو کہے ہیں،  لیکن وہ زیورات اپنی بیٹی کے قبضے میں نہیں دیے یا وہ بیٹی اس وقت نابالغہ تھی  اور اس کے کسی ولی کے قبضے میں نہیں دیے تو ایسی صورت میں صرف وقف کے الفاظ ادا  کرنے سے وہ زیورات بیٹی کی ملکیت میں شمار نہیں ہوں گے،  بلکہ بدستور والدہ کی ملکیت میں رہے اور  والدہ ہی ان کی زکاۃ ادا  کرنے کی پابند ہوں گی۔

باقی وقف مال میں زکات واجب نہ ہونے کا اس مسئلے سے تعلق نہیں ہے، وہ اس صورت میں ہے جب کہ مال کسی جہتِ خیر کے لیے وقف کردیا جائے اور اس پر کسی خاص فرد کو ملکیت دینا مقصود نہ ہو، مثلًا: مسجد یا مدرسے کا چندہ، یہ وقف کا مال ہے، اس پر اگر سال بھی گزر جائے تو زکات واجب نہیں ہوتی۔ہاں اگر اس وقف فنڈ میں سے شرائط کے مطابق کسی کو تنخواہ وغیرہ کی مد میں رقم جاری کردی جائے، اور کسی فرد کی ملکیت میں وہ آجائے تو اس کا حکم دیگر اموال کی طرح ہوگا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: 

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

(4/378،  الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز، ط: رشیدیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے: 

"(و) يضم (الذهب إلى الفضة) و عكسه بجامع الثمنية (قيمة)."

(رد المحتار) (2/ 303)

بدائع الصنائع  میں ہے: 
" فأما إذا كان له الصنفان جميعاً فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا ... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة."
(2/ 19)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر» وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقومًا بعشرة دراهم.(2/ 18)."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں