بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اولیا کے نام سے پہلے ''یا'' لگانا


سوال

اولیاء کرام کے نام سے پہلے ''یا'' لگانا کیسا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اولیاء کرام سے مدد طلب کرنے کی نیت سے یا  ان کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے  "یا " لکھنا ممنوع اور گناہ ہے۔ اور  اس اعتقاد کے بغیر شوق اور لذت حاصل کرنے کے لیے "یا" کہنے کی اجازت ہے۔ البتہ  اگر کہیں اشتباہ ہو کہ مخاطب  غلط مطلب سمجھ لے گا تو  احتراز کیا جائے۔

امداد الفتاوی میں ہے:

"بارادۂ استعانت و استغاثہ یا باعتقاد حاضر وناظر ہونے کے منہی عنہ  اوربدون اس اعتقاد کے محض شوقاً و استلذاذاً ماذون فیہ ہے، چوں کہ اشعار پڑھنے کی غرض محض اظہار شوق و استلذاذ ہو تاہے؛ اس  لیے نقل میں توسع کیا گیا، لیکن اگر کسی جگہ اس کے خلاف دیکھا جائے گا، منع کر دیا جائے گا۔"

( امداد الفتاوی ج نمبر ۵ ص نمبر ۳۹۱،دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100773

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں