بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

آفس کی چیزوں کو ذاتی استعمال میں لانا


سوال

 میں ایک پبلک کمپنی میں ملازم ہوں، دفتر میں کبھی کبھی پین،پیپر یا پرنٹر سے چھوٹا موٹا ذاتی کام بھی لے لیتا ہوں،کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟اگر غلط ہے ،تو اس کا  شرعی طور پر کیسے تدارک کیا جاوے؟

جواب

آفس کی چیزیں جو آپ کو آفس کے کام کے لیے دی گئی ہیں ان اشیاء کو مالک کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں لانا آپ کے لیے جائز نہیں ہے، البتہ مالک اجازت دے دے تو پھر آپ ان اشیاء کو اپنے ذاتی استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔

اب تک جتنی مرتبہ آپ مالک کی اجازت کے بغیر آفس کی اشیاء اپنے ذاتی استعمال میں لاچکے ہیں وہ جائز نہیں تھا ، آپ پر لازم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ مالک کو بھی ساری تفصیل بتاکر ان سے معذرت کریں، اور دنیا میں ان کا یہ حق معاف کرالیں،  یا اس کی ادائیگی کی کوئی صورت باہمی رضامندی سے طے کرلیں، ورنہ آخرت میں حساب دینا پڑے گا۔ 

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «‌ألا ‌لا ‌تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني(إلا بطيب نفس ) أي: بأمر أو رضا منه."

(باب الغصب والعارية، ج:5، ص:1974، ط: دار الفكر)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص27، ط:دار الجیل)

فتاوی شامی میں ہے:

"لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں