بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عدیہ کا نام کا تلفظ و حکم


سوال

"عدیہ" نام کاتلفظ  کیا ہے؟اورمعنی کیا ہے؟یہ نام بھاری تو نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "عدیہ" ایک صحابیہ کا نام ہے، لہذا یہ نام رکھنا خیر و برکت کا باعث ہے، نیز "عدیہ" عدوۃ کی تصغیر ہے، اور عدوۃ  کا معنی ہے، بلند جگہ، وادی کا کنارہ، گوشہ، اور اس نام کا تلفظ یہ ہے کہ "ع" پر پیش، "دال" پر زبراور "ی" پر تشدید مع زبر یعنی عُدَیَّہ ہے،لہذا بچی کا نام "عدیہ" رکھنا درست ہے۔ 

الاصابہ  فی تمییز الصحابہ میں ہے:

"‌عدية بنت سعد بن خليفة بن أشرف الأنصارية «3» ، من بني الحارث بن الخزرج بن ساعدة. ذكرها ابن حبيب في المبايعات."

(‌‌حرف العين المهملة، القسم الأول، 238/8، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

الاكمال - لابن ماكولا میں ہے:

"وأما ‌عديّة بضم العين وفتح الدال المهملة وتشديد الياء المعجمة باثنتين من تحتها."

(‌‌باب عذبة وعدية وعدنة،166/6، ط:دائرة المعارف العثمانية، الهند)

المذكر والمؤنث میں ہے:

"فمن قال عدو قال في التصغير: عدي، ومن قال عدوة قال في التصغير: ‌عدية."

(‌‌‌‌باب فعيل،‌‌ باب ماجاءفي النعوت على مثال فعول، 56/2، ط: لجنة إحياء التراث)

القاموس الوحید میں ہے:

العدوۃ:  بلند جگہ / وادی کا کنارہ/ گوشہ۔

(ع، ع-د، ص:1058، ط: ادارہ اسلامیات)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں