بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ٓآرڈر پر مال بنانے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر مال بنانے کے بعد گاہک مال نہ لے تو اس کا کیا حکم ہے؟


سوال

ہم کھڑکی کے پردہ بنانے کا کام کرتے ہیں، ہم کو ہمارا کسٹمر سائز بتاتا ہے اور ڈیزائن نمبر بتاتا ہے کہ اس کلر کا بنانا ہے اور ہم اس کا آرڈر لے کر چیز بناتے ہیں جو کہ خام مال ہوتاہے، جیسے راڈ مشین مٹیرئیل وغیرہ کو ملا کر بناتے ہیں اور بنانے کے دو سے تین دن بعد اس کو فراہم کرتے ہیں اور وہ رقم دے کر سامان یعنی کھڑکی کا پردہ اُٹھالیتا ہے آیا اس قسم کی خرید و فروخت جائز ہے؟ نیز اگر آرڈر دینے کے بعد  کسٹمر پیچھے ہٹ جائے اور کہے مجھے مال نہیں لینا جب کہ مال ہم نے بنالیا ہو تو  آیا اس پر شرعًا لازم ہے کہ وہ اپنے دئیے گئے آرڈر کے مطابق مال لازمی وصول کرے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کاریگر یا کارخانے کو آرڈر دے کر مال بنوانا جائز ہے اور اس کو شریعت کی اصطلاح میں استصناع کہتے ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں آرڈر پر پردے بنانا جائز ہے باقی مال تیار ہوجانے کے بعد اگر گاہک مال لینے سے انکار کرے تو اگر کاریگر نے گاہک کے آرڈر کے مطابق مال بنایاہے تو گاہک کو واپس کرنے  کا اختیار نہیں ہے،بلکہ مال لینا لازم ہے اور اگر کاریگر نے گاہک کے آڈر کے مطابق مال نہیں بنا یا تو گاہک کو واپس کرنے کا اختیار  ہے۔

شرح المجلۃللاتاسی میں ہے:

"إذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع عنه و إذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرًا لفوات الوصف المرغوب فيه أما الصانع فلا خيار له مطلقًا؛ لأنه باع مالم يره و لاخيار للبائع ... و أما إلزام الصانع على العمل و عدم رجوع الآمر عنه فهو و إن صرح به في التنوير للدرر و الوقاية إلا أنه مخالف لكثير من كتب المذهب لقول البحر : وحكمه الجواز دون اللزوم  و لذا قلنا للصانع أن يبيع المصنوع قبل أن يراه المستصنع لأن العقد غير لازم لما في البدائع : و أما صفته فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل من الجانبين بلا خلاف ، حتي كان لكل واحد منها خيار الامتناع من العمل ، كالبيع با لخيار للمتبايعين فاِن لكل واحد منهما الفسخ  و أما بعد الفراغ من العمل قبل أن يراه المستصنع فكذلك حتى كان للصانع أن يبيعه ممن شاء و إذا أحضره الثاني فلا خيار لهما عند الثاني و عليه هذه المادة ....الخ" 

(رقم المادة  : 392 ، الباب السابع في بيان البيع و أحكامه ، الفصل الرابع : في الاستصناع 2/ 406،407 ط : مكتبة إسلامية ، كوئٹه)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) حكم ‌الاستصناع فحكمه في حق المستصنع - إذا أتى الصانع بالمستصنع على الصفة المشروطة - ثبوت ملك غير لازم في حقه حتى يثبت له خيار الرؤية إذا رآه، إن شاء أخذه وإن شاء تركه، وفي حق الصانع ثبوت ملك لازم إذا رآه المستصنع ورضي به، ولا خيار له، وهذا جواب ظاهر الرواية.وروي عن أبي حنيفة أنه غير لازم في حق كل واحد منهما حتى يثبت لكل واحد منهما الخيار.وروي عن أبي يوسف - رحمه الله - أنه لازم في حقهما حتى لا خيار لأحدهما لا للصانع ولا للمستصنع أيضا (وجه) رواية أبي يوسف أن في إثبات الخيار للمستصنع إضرارا بالصانع؛ لأنه قد أفسد متاعه وفرى جلده وأتى بالمستصنع على الصفة المشروطة فلو ثبت له الخيار لتضرر به الصانع فيلزم دفعا للضرر عنه.

(وجه) الرواية الأولى أن في اللزوم إضرارا بهما جميعا، أما إضرار الصانع فلما قال أبو يوسف: وأما ضرر المستصنع فلأن الصانع متى لم يصنعه، واتفق له مشتر يبيعه فلا تندفع حاجة المستصنع فيتضرر به فوجب أن يثبت الخيار لهما دفعا للضرر عنهما."

(فصل فی الشرائط التي یرجع إلی المسلم، 5/ 210، ط : دارالکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144311101332

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں