بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

octafx ایپ سے کمائی کرنے کا حکم


سوال

کیا OctaFX نامی App میں کاروبار کرنا ازروئے شریعت جائز ہے یا ناجائز ہے ؟ ہمارے یہاں کے بہت سے نوجوان اس سے پیسے کماتے ہیں۔

جواب

octafx ایک موبائل ایپ ہے،اس ایپ میں سب سے پہلے ایک مخصوص رقم سے اکاؤنٹ بنانا ہوتا ہے، پھر اس رقم سے مختلف کمپنیوں کے شیئرز خریدے جاتے ہیں ،مثال کے طور پر کسی کمپنی کا ایک شیئر 3یا5 روپے کا ہے اور دن کے اختتام پر اگرکمپنی کے شیئرز  بڑھتے یا کم ہوتے ہیں، تو اسی حساب سے نفع یا نقصان شامل ہوتاہے، اس کاروبار کا تعلق عالمی ایکسچینج ریٹ سے ہوتا ہے،لہذا Octafx کے ذریعے جو آن لائن ٹریڈنگ کی جاتی ہےکہ اس میں ٹریڈنگ کے لیے  اکاؤنٹ میں پیسے جمع کر کے اسے آن لائن کرنسی یا الیکٹرانک منی میں تبدیل کر کے کرنسی کی خرید و فروخت کرتے ہیں، اس کے ذریعے پیسے کمانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

1:  کرنسی کی بیع شرعاً "بیعِ صرف" ہے، جس  میں بدلین پر مجلس میں قبضہ ضروری ہے جب کہ دونوں جانب سے یا کسی ایک جانب سے ادھار ناجائز ہے، لہذا ہر ایسا معاملہ جس میں کرنسی کی خرید و فروخت ادھار ہوتی ہے، یا نقد ہوتی ہے مگر عقد کے دونوں فریق  یا کوئی ایک فریق اپنے حق پر قبضہ نہیں کرتا، وہ معاملہ   قبضہ نہ پائے جانے کی وجہ سے  فاسد ہو گا اور نفع حلال نہ ہوگا۔

2:مسلّمہ اصول ہے کہ بیع شرطِ فاسد  سے فاسد ہو جاتی ہے، ان پلیٹ فارم کے ذریعے بڑے پیمانے پر فاریکس ٹریڈنگ ہوتی ہے، "فاریکس" کے کاروبار میں شروطِ فاسدہ بھی لگائی جاتی ہیں، مثلاً swaps (بیع بشرط الاقالہ) میں یہ شرط لگانا کہ ایک مقررہ مدت کے بعد بیع کو  ختم کیا جائے گا، حالاں کہ بیع تام ہو جانے کے بعد لازم ہوجاتی ہے اور جانبین کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ 

3:  نیز Options میں خریدار کو یہ حق دینا کہ وہ اپنی بیع کو  سامنے والے فریق کی رضا مندی کے بغیر بھی "اقالہ" کرسکتا ہے، یہ بھی شرطِ فاسد ہے، کیوں کہ "اقالہ" میں جانبین کی رضامندی شرط  ہوتی ہے۔

4:  اس میں فیوچر سیل بھی ناجائز ہے؛ کیوں کہ  بیع  کا فوری ہوناضروری ہے،مستقبل کی تاریخ پر خریدوفروخت ناجائز ہے۔

5:   اس  طریقہ کاروبار میں ایک قباحت "بیع قبل القبض" کی بھی ہے؛ کیوں کہ ستر، اسی فیصد لوگ اس مارکیٹ میں خریداری محض کرنسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ کے ذریعہ نفع حاصل کرنے کےلیے کرتے ہیں، ان کا مقصد کرنسی حاصل کرنا نہیں ہوتا؛ لہذا اکثر خریدارکرنسی کا قبضہ حاصل نہیں کرتے اور آگے بیچ دیتے ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد كذا في فتح القدير وتفسير الافتراق هو أن يفترق العاقدان بأبدانهما عن مجلسهما بأن يأخذ هذا في جهة وهذا في جهة أو يذهب أحدهما ويبقى الآخر حتى لو كانا في مجلسهما لم يبرحا عنه لم يكونا متفرقين، وإن طال مجلسهما إلا بعد الافتراق بأبدانهما."

(كتاب الصرف،الباب الأول في تعريف الصرف وركنه وحكمه وشرائطه،217/3،ط:رشيدية)

وفيه أيضا:

"وشرط صحة الإقالة رضا المتقائلين والمجلس وتقابض بدل الصرف في إقالته وأن يكون المبيع محل الفسخ بسائر أسباب الفسخ ..وقيام المبيع وقت الإقالة فإن كان هالكا وقت الإقالة لم تصح وأما قيام الثمن وقت الإقالة فليس بشرط."

(كتاب البيوع،الباب الثالث عشر في الإقالة،157/3،ط:رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"لما أن استثناء ما في البطن بمنزلة شرط فاسد، والبيع وأخواته تبطلها الشروط الفاسدة؛ فكان الشرط فاسدا، والعقد فاسدا."

(كتاب البيوع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،175/5،ط:دار الكتب العلمية)

وفيه أيضا:

"(وأما) بيان صفة الحكم فله صفتان: إحداهما اللزوم حتى لا ينفرد أحد العاقدين بالفسخ، سواء كان بعد الافتراق عن المجلس أو قبله عندنا..والثانية: الحلول، وهو ثبوت الملك في البدلين للحال؛ لأنه تمليك بتمليك، وهو إيجاب الملك من الجانبين للحال فيقتضي ثبوت الملك في البدلين في الحال بخلاف البيع بشرط الخيار."

(كتاب البيوع،فصل في حكم البيع،243/5،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط لما فيه من القمار، وبقي الوكالة على قول الثاني المفتى به."

(كتاب البيوع،باب المتفرقات،مطلب ما يصح إضافته و مالا يصح،256/5،ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405100555

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں