بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

نومولود بچے کے کان میں ایک سال بعد اذان دینے کا حکم


سوال

 بچہ جب پیدا ہوا تھا،  تب اذان نہیں دی گئی تھی،  اب ایک سال ہو چکا ہے تو کیا اب اذان دے سکتے  ہیں یا نہیں ؟ اور ایک سال بعد اذان دے رہے ہیں تو کیا اس طرح سے سنت ادا ہو جائے گی ؟

جواب

حدیث شریف میں نومولود بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کا حکم ہےتاکہ نومولود بچے کے کانوں میں اوّل وہلہ میں اللہ تعالیٰ کا نام پڑجائے اور وہ شیطان کے نقصان سے محفوظ ہوجائےجیسے کہ حدیث شریف میں ہے،

"حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا بچہ پیدا ہوجائے اور وہ اس کے دائیں کا ن میں اذان دے دے، اور بائیں کان میں اقامت دیدے، تو شیطان اس بچے کو نقصان نہیں پہنچائےگا۔ "

(الجامع الصغیر فی احادیث البشیر والنذیر ، باب حرف المیم، رقم الحدیث:9085، ج:2، ص:352، ط:دارالکتب العلمیۃ)

البتہ اگر کسی نومولود بچے کے کان  میں اس  دوران اذان نہیں دی گئی، اور وہ بچہ بڑا ہوگیا تو کان میں اذان وقامت کہنے سے سنت ادا نہیں ہوگی۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(وعن أبي رافع - رضي الله عنه -) أي مولى النبي صلى الله عليه وسلم قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي» ) بضم الذال ويسكن (حين ولدته فاطمة) : يحتمل السابع وقبله (بالصلاة) . أي بأذانها وهو متعلق بأذن، والمعنى أذن بمثل أذان الصلاة وهذا يدل على سنية الأذان في أذن المولود وفي شرح السنة: روي أن عمر بن عبد العزيز - رضي الله عنه - كان يؤذن في اليمنى ويقيم في اليسرى إذا ولد الصبي. قلت: قد جاء في مسند أبي يعلى الموصلي، عن الحسين - رضي الله عنه - مرفوعا: «من ولد له ولد فأذن في أذنه اليمنى وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان» " كذا في الجامع الصغير للسيوطي رحمه الله. قال النووي في الروضة: ويستحب أن يقول في أذنه " {وإني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم} [آل عمران: 36] " قال الطيبي ولعل مناسبة الآية بالأذان أن الأذان أيضًا يطرد الشيطان لقوله صلى الله عليه وسلم: " «إذا نودي للصلاة أدبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التأذين» " وذكر الأذان والتسمية في باب العقيقة وارد على سبيل الاستطراد اهـ. والأظهر أن حكمة الأذان في الأذن أنه يطرق سمعه أول وهلة ذكر الله تعالى على وجه الدعاء إلى الإيمان والصلاة التي هي أم الأركان ،" 

(كتاب الصيد والذبائح، باب العقيقة، ج:7،  ص:2691، ط:دارالفكر) 

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144206200385

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں