بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نوکری کی وجہ سے جماعت سے نماز ادا نہ کرنے کا حکم


سوال

1۔  ڈرائیور ، گارڈ ، چو کیدار یا کوئی بھی ایسی ملازمت ہو جس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت اس وجہ سے نہ ہو کہ مسجد دور ہے ٹائم زیادہ لگتا ہے یا گیٹ خالی نہ چھوڑنا ہو، اور یہ معاملہ ایک یا دو   دن کا نہ ہو، بلکہ    ڈیوٹی چھوڑ کر  مستقل نماز کے لیے جانے کی اجازت نہ ہو، تو  کیا اس صورت میں ایسی  ملازمت کرنا جائز ہے ؟

2۔ اگر  ڈرائیونگ  کے دوران نماز کا یعنی  جماعت کا وقت ہو جائے اور مالک کی جانب سے گاڑی کھڑی کرکے  جماعت سے  نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہوتو اس صورت میں  جماعت چھوڑنے کا گناہ مالک کےسر ہوگا  یا ڈرائیور پر ہوگا؟ 

جواب

1۔ جماعت سے نماز ادا کرنا سنت مؤکدہ  ، اور عملا واجب ہے،  شرعی  عذر ( بیماری، سفر، دشمن کاخوف، تیمار داری، شدید برسات، وغیرہ)   کے علاوہ کسی اور سبب  جماعت ترک کرنا مکروہ تحریمی ہے،  لہذا  صورت مسئولہ میں  ڈرائیوری، چوکیداری، و غیرہ کے سبب مستقل جماعت  ترک کرنا جائز نہ ہوگا،  جماعت میں حاضری کی گاہ بگاہے کوشش کرتے رہنا چاہیے،  البتہ جن نمازوں میں جماعت میں شرکت ممکن نہ ہوسکے  تو جائے ملازمت پر دو تین افراد کے ساتھ  مل کر جماعت سے نماز ادا کرلی جائے، اور دل سے جماعت میں حاضر ہونے کی نیت و خواہش  رکھی جائے، اور ایسی نوکری تلاش کی جائے، جہاں نماز با جماعت ادا۔ کرنے کی اجازت ہو، اور جب تک ایسی نوکری نہ ملے موجودہ نوکری جاری رکھی جائے۔

2۔ مالک کو اپنے ساتھ جماعت سے نماز ادا کروانے کی کوشش کرتے رہیں، کوشش کے باوجود اگر وہ نماز نہ پڑھے، اور ڈرائیور کو گاڑی روک کر باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت نہ دے، تو اس صورت میں ترک جماعت کا گناہ مالک پر بھی ہوگا، ڈرائیور ایسی نوکری کی تلاش جاری رکھے جہاں نماز با جماعت  ادا کرنے کی اجازت ہو۔

حلبي کبیر میں ہے :

" وکذا الأحکام تدل علی الوجوب من أن تارکها من غیر عذر یعزر، وترد شهادته، ویأثم الجیران بالسکوت عنه، و هذہ کلها أحکام الواجب."

(كتاب الصلاة، فصل في الإمامة، ص: ٥٠٨، ط: سهيل اكيڈمی)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاحمیں ہے:

"وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها المبيحة للتخلف" وكانت نيته حضورها لولا العذر الحاصل "يحصل له ثوابها" لقوله صلى الله عليه وسلم: "إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى".

"وإنما لكل امرىء ما نوى" هو محل الشاهد على أحد ما قيل فيه والمعنى أن له ما نواه وان لم يعمله وروى العسكري في الأمثال والبيهقي في الشعب وقال إسناده ضعيف عن أنس يرفعه نية المؤمن أبلغ من عمله كما في المقاصد الحسنة والله سبحانه وتعالى أعلم وأستغفر الله العظيم."

(كتاب الصلاة، فصل: يسقط حضور الجماعة بواحد من ثمانية عشر شيئا، ص: ٢٩٩، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144508101150

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں