بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نومسلم لڑکی کے لیے غیر مسلم ملک میں احکام اسلام پر عمل کرنے کے لیے ہاسٹل میں رہائش اختیار کرنا


سوال

میں نے ایک سال پہلے چھپ کر اسلام قبول کیا تھا، میں ابھی 18 سال کی ہوں اور میرا داخلہ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں ہو گیا ہے۔ میرا بھائی میری یونیورسٹی سے 40 منٹ کی دوری پر رہتا ہے، جنوری میں،  میں جانے کا ارادہ رکھتی ہوں؛ چوں کہ میرے دونوں  بھائی اور امی وہاں ساتھ رہیں گے اور گھر صرف دو کمروں کا ہے، میرے لیے نماز و قرآن وقت پر پابندی سے پڑھنا مشکل ہوگا۔ اسی وجہ سے میں ہوسٹل میں رہنے کا سوچ رہی ہوں، جہاں میں حجاب بھی با آسانی پہن سکوں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئوله ميں ذكر كرده تفصيل اگر واقعے كے مطابق اور درست هے تو اس كا حكم یہ ہے کہ   آپ كے ليے جهاں  اسلامي اَحكام پر آساني سے عمل كرنا ممكن هو وهيں رہائش اختیار کریں، لہذا اگر امریکا میں گھر میں رہتے ہوئے اسلامی اَحکام پر عمل دشوار ہو اور ہاسٹل میں  اسلامی اَحکام پر عمل آسان ہو تو   اپنی جان، عزت و آبرو کی حفاظت اور دیگر  منکرات سے بچتے ہوئے  وہیں رہائش اختیار کریں۔

نیز   آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ  اپنے مخلص ومعتمد رشتہ داروں یا  معتمد، مسلم سرپرستوں کے توسط  سے کسی دِین دار مسلم گھرانے میں  نکاح کرلیں، تاکہ  محفوظ گھر، نان و نفقہ کا انتظام اور شوہر کی صورت میں محافظ بھی میسر ہوسکے اور شریعتِ مطہرہ کے احکام پر عمل میں بھی آسانی ہو۔ 

مزید برآں جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایمان کی دولت سے نوازا ہے، اسی طرح اپنے گھر والوں کے ایمان کے لیے بھی فکرمند رہیں، ان کی ہدایت کے لیے دعا کرتی رہاکریں اور ان کو بھی ابدی اور ہمیشہ کے عذاب سے بچانے کے لیے حکمت و تدبیر کے ساتھ ہمہ تن کوشاں رہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202201291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں