بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نمازمیں قراءت کے دوران ایک یا دو آیتوں کے رہ جانے کا حکم


سوال

اگر فرض نماز میں ایک یا دو آیات رہ جائیں،تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر نماز میں قراءت کےدوران تین آیت پڑھنے کےبعد  ایک یا دو آیتیں چھوڑ دیں اور اس کے چھوڑنے سے معنی کے اندر کوئی تبدیلی بھی پیدا نہ ہوئی تو ایسی صورت میں نماز صحیح ہے اس نماز کو دوبارہ پڑھنا یا سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہے، البتہ چھوٹی ہوئی آیات یاد ہوتے ہوئے ایسا عمل کرنا کراہت سے خالی نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

(ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفًا تامًّا ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لاتفسد كما لو قرأ: {والعصر - إن الإنسان} [العصر: 1 - 2] ثم قال: {إن الأبرار لفي نعيم} [الانفطار: 13] ، أو قرأ: {والتين} [التين: 1] إلى قوله: {وهذا البلد الأمين} [التين: 3] ووقف، ثم قرأ: {لقد خلقنا الإنسان في كبد} [البلد: 4] أو قرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [البينة: 7] ووقف ثم قال: {أولئك هم شر البرية} [البينة: 6] لاتفسد. أما إذا لم يقف ووصل - إن لم يغير المعنى - نحو أن يقرأ: {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] فلهم الحسنى مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد. أما إذا غير المعنى بأن قرأ " إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب " إلى قوله " خالدين فيها أولئك هم خير البرية " تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح، هكذا في الخلاصة.

(الفتاوى الهندية ،ج:1،ص:80، ط:مکتبة رشیدية)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

م:وإذا انتقل من آیة  إلى آیة أخرى  من سورة أخرى أو من ھذہ السورة  و بینھما آیات یکره.

(الفتاوى التاتارخانیة، ج:1،ص:452، ط: إدارة القرآن )

 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201521

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں