بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں خلافِ ترتیب قراءت کرنا / پہلی اور دوسری رکعات میں قراءت کی مقدار


سوال

1. نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد قراء ت میں قرآن کی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ نہیں؟ مثلاً  پہلی رکعت میں سورہ قریش اور دوسری میں سورہ فیل پڑھنا کیسا ہے؟

2. پہلی رکعت میں مختصر سورت اور دوسری میں طویل سورت پرھنے سے نماز میں کوئی کراہت تو نہیں آتی؟ 

جواب

1۔ فرض نماز میں بالقصد و الارادہ اس طرح کرنا مکروہِ  تحریمی ہے، سہواً کبھی ایسا ہوجائے تو حرج نہیں، بہر صورت نماز ادا ہوجائے گی سجدہ سہو لازم نہ ہوگا،  پہلی صورت (جان کر ایسے کرنے کی صورت) میں نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوگی، جب کہ دوسری صورت میں بلا کراہت۔ اور نفل میں ترتیب لازم نہیں ہے، البتہ بہتر ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

نماز میں سورتوں کو خلافِ ترتیب پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

2۔ فجر کی فرض نماز کے علاوہ باقی فرض نمازوں میں پہلی اور دوسری رکعات میں برابر قرأت کرنا چاہیے، جب کہ فرض نماز کی دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی قرأت کی بہ نسبت اتنی زیادہ تلاوت کرنا کہ اس کی طوالت واضح ہو، یہ مکروہِ تنزیہی ہے۔ فقہاءِ کرام نے اس کی مقدار تین آیات یا اس سے زیادہ آیات زائد لکھی ہے، یعنی فرض نماز کی دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی بہ نسبت تین یا اس سے زیادہ آیات تلاوت کرنا مکروہ ہے۔ نیز احادیثِ مبارکہ میں جن نمازوں کی پہلی رکعت کے مقابلے میں دوسری رکعت میں طویل سورتوں کا پڑھنا  ثابت ہے، اس کی رعایت کرتے ہوئے اس طرح تلاوت کرنا درست، بلکہ بہتر ہے، مثلاً: جمعے یا عید کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ تلاوت کرنا۔

جہاں تک سنن و نوافل کی بات ہے، تو ان میں دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی بہ نسبت زائد قرأت کرنا مکروہ نہیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

نماز میں پہلی رکعت میں مختصر سورت پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں اس سے بڑی سورت پڑھنا

  جیساکہ ’’تبین الحقائق‘‘ میں ہے:

’’وفي الدراية: و إطالة الركعة الثانية علی الأولی بثلاث آيات فصاعداً في الفرائض مكروه، و في السنن و النوافل لايكره؛ لأن أمرها سهل‘‘. (باب صفة ١/ ٣٣٥، ط: سعيد)

الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے:

’’و استظهر في النوافل عدم الكراهة مطلقاً‘‘. و في الشامية: ’’( قوله: مطلق) ... أطلق في جامع المحبوبي عدم كراهة إطالة الأولي علي الثانية في السنن و النوافل، لأن أمرها سهل، و اختاره أبو اليسر و مشی عليه في خزانة الفتاوي، فكان الظاهر عدم الكراهة‘‘ الخ. (فصل في القراءة، مطلب: السنة تكون سنة عين و سنة كفاية، ١/ ٥٤٣) ط: سعيد)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201298

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں