بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنے کا حکم


سوال

فرض نماز کے بعد سر پہ ہاتھ  رکھ  کر یہ دعا پڑھنا  کیسا ہے ؟  اور کسی کتاب کا حوالہ ہو تو بیان کر دیں۔ ’’بسم اللّٰه لا إله إلا هو الرحمان الرحیم اللهم أذهب عن الهم والحزن‘‘.

جواب

فرض نماز کے بعد سر پر ہاتھ  رکھ  کر یہ دعا "بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّيَ الْهَمَّ وَالْحُزْنَ" پڑھنا مختلف احادیث میں منقول ہے جو  امام طبرانی رحمہ اللہ نے ’’المعجم الاوسط‘‘ میں   اور ’’الدعا ء ‘‘ میں نقل کی ہے، اگرچہ   اس حدیث کی سند کے بعض راویوں پر  کچھ کلام ہے، لیکن بالکل ساقط الاعتبار روایت نہیں ہے، لہذا فرض  نماز کے بعد اس دعا کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں،   البتہ اس کو  ضروری یا سنت سمجھنا  بھی  درست نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے اور ضعیف حدیث پر عمل کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اس کے سنت ہونے کا اعتقاد نہ رکھا جائے ۔ پوری حدیث ملاحظہ فرمائیں:

"حدثنا بکر قال، نا عبدالله بن صالح قال: نا کثیر بن سلیم الیشکري، عن أنس بن مالك أن النبي صلی الله علیه وسلم کان إذا صلی وفرغ من صلاته مسح بیمینه علی رأسه، وقال: بسم الله الذي لا إله إلا هو الرحمن الرحیم، اللهم اذهب عني الهم والحزن". (المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه بکر: ۴۔۱۲۶،ط:مکتبة المعارف ریاض )

امام طبرانی اپنی کتاب الدعاء میں رقم طراز ہیں :

"حدثنا أبو مسلم الکشي، ثنا حفص بن عمر الحوضي، ثنا سلام الطویل، عن زید العمي، عن معاویة بن قرة، عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: "کان رسول الله صلی الله علیه وسلم إذا قضی صلاته یعنی وسلم، مسح جبهته بیده الیمنی، ثم یقول: بسم الله الذي لا إله إلا هو الرحمن الرحیم، اللهم اذهب عني الهم والحزن". (الدعاء للطبراني، جامع أبواب القول أدبار الصلاة :۱۔۲۱۰ ، ط:دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۱۳هـ)

علامہ ہیثمی اس کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں :

"رواه الطبراني في الأوسط والبزاز نحوه بأسانید، وفیه زید العمي، وقد وثقه غیر واحد، وضعفه الجمهور، وبقیة رجال أحد إسنادي الطبراني ثقات، وفي بعضهم خلاف". (مجمع الزوائد: ۳۔۲۴۱،دارالکتب العلمیة بیروت ۱۹۹۸ء)  

النكت على مقدمة ابن الصلاح  میں ہے:

"أن الضعيف لايحتج به في العقائد والأحكام، ويجوز روايته والعمل به في غير ذلك، كالقصص وفضائل الأعمال، والترغيب والترهيب، ونقل ذلك عن ابن مهدي وأحمد بن حنبل، وروى البيهقي في المدخل عن عبد الرحمن ابن مهدي أنه قال : " إذا روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم في الحلال والحرام والأحكام شددنا في الأسانيد، وانتقدنا في الرجال، وإذا روينا في فضائل الأعمال والثواب والعقاب سهلنا في الأسانيد، وتسامحنا في الرجال". (النكت على مقدمة ابن الصلاح (2/ 308)

تدریب الراوي  میں ہے:

"الثالث: أن لایعتقد عند العمل به ثبوته، بل یعتقد الاحتیاط". (تدریب الراوي شرح تقریب النواوي ص:351 ط:مکتبة الکوثر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109203154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں