بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے رکعات میں تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کا حکم


سوال

نماز کی پہلی رکعت میں تعوذ پڑھنا ہے، اور دوسری تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی تعوذ پڑھنا ہے ،یا صرف  بسم اللہ سے شروع کرنا ہے؟

جواب

امام اور منفرد کے لیے ثناء کے بعد سورہ فاتحہ سے پہلے یعنی صرف پہلی رکعت میں  تعوذ یعنی أعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم پڑھنا مسنون ہے، اس کے بعد"أعوذ باللہ" باقی رکعات میں  نہیں پڑھا جائے گا ۔البتہ دوسری تیسری اور چوتھی رکعت میں  میں سورہ فاتحہ سے پہلے تسمیہ یعنی "بسم الله  الرحمن الرحیم"پڑھنا بالاتفاق مسنون ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے: 

"فالتعوذ سنة في الصلاۃ عند عامة العلماء."

(کتاب الصلاۃ،ج:1، ص:202، ط: سعید)

تفسیر مظہری میں ہے:

"(مسئلة) اختلفوا فى التعوذ قبل القراءة فى الصلاة فقال ابو حنيفة واحمد يتعوذ فى أول ركعة..............ولنا ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ بعد الثناء فى الركعة الاولى ولم يرو عنه صلى الله عليه وسلم التعوذ فى ركعة غير الاولى."

(سورة النحل(١٦)،الاية(٩٨)، ج:5، ص:376، ط:مکتبة الرشدیه)

قدوری میں ہے:

"ويفعل في ‌الركعة الثانية مثل ما فعل في الأولى إلا أنه لا يستفتح ولا ‌يتعوذ ولا يرفع يديه إلا في التكبير الأولى."

(کتاب ا لصلوٰۃ،باب صفة الصلوٰۃ، ج:1، ص:52، ط:دارا لکتب العلمیه)

هدايه میں ہے:

"ويفعل في ‌الركعة الثانية مثل ما فعل في " ‌الركعة " الأولى " لأنه تكرار الأركان " إلا أنه لا يستفتح ولا ‌يتعوذ " لأنهما لم يشرعا إلا مرة واحدة ."

(کتاب ا لصلوٰۃ،باب صفة الصلوٰۃ، ج:1، ص:52، ط:دارا حیاء التراث)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله (والثانية كالأولى) ......... (قوله ولا ‌يتعوذ) ؛ لأنه شرع في أول القراءة لدفع الوسوسة فلا يتكرر إلا بتبدل المجلس كما لو تعوذ وقرأ، ثم سكت قليلا وقرأ."

(کتاب ا لصلوٰۃ،اداب الصلوٰۃ، ج:1، ص:341، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله سرا في أول كل ركعة) كذا في بعض النسخ وسقط سرا من بعضها ولا بد منه."

(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة، فصل فی بیان تأليف الصلاة الى انتهائها، ج1, ص490، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

" (قوله وسمى سرا في كل ركعة)........ وقوله في كل ركعة أي في ابتداء كل ركعة ."

(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة،ج1،ص545،ط:دارالکتب العلمیة،بیروت)

حاشیة الطحطاوی علی مراقي الفلاح میں ہے : 

"وتسن التسمیة أول کل رکعة قبل الفاتحة؛ لأنه صلی اللّٰہ علیه وسلم کان یفتتح صلاته ب ’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم."

(کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ وارکانھا،فصل فی بیان سننھا،ص،260، ط : دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم بالصواب


فتوی نمبر : 144502101170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں