بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز جمعہ میں خطبہ کا طویل کرنا اور نماز کا مختصر کرنا کیسا ہے؟


سوال

نماز جمعہ میں خطبہ کا طویل کرنا اور نماز کا مختصر کرنا کیسا ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی نماز میں خطبہ نماز سےطویل کرنا مکروہ ہے، حدیث میں خطبہ طویل کرنے کی ممانعت آئی ہے،آپﷺ اور صحابہ کرام  رضوان  اللہ علہیم اجمعین کا معمول جمعہ کا خطبہ مختصر دینے اور نماز خطبہ کی بہ نسبت طویل پڑھانے کا تھا، لہذاجمعہ کےدن امام صاحب کوچائیے کہ کمزوروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھ کر نماز پڑھائےاورخطبہ مختصر دے،اس قدر طویل خطبہ دینا جو تقلیل جماعت کا سبب بنے  درست  نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويسن خطبتان) خفيفتان وتكره زيادتهما على قدر سورة من طوال المفصل (بجلسة بينهما) بقدر ثلاث آيات على المذهب....قوله: وتكره زيادتهما إلخ) عبارة القهستاني وزيادة التطويل مكروهة."

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:148، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن ‌لا ‌يطول الخطبة؛ لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - أمر بتقصير الخطب، وعن عمر - رضي الله عنه - أنه قال: طولوا الصلاة وقصروا الخطبة، وقال: ابن مسعود طول الصلاة وقصر الخطبة من فقه الرجل أي أن هذا مما يستدل به على فقه الرجل."

(كتاب الصلاة، حكم الخطبة، ج:1، ص:263، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضاً:

"وأما سنن الخطبة فمنها أن يخطب خطبتين على ما روي عن الحسن بن زياد عن أبي حنيفة أنه قال: ينبغي أن يخطب خطبة خفيفة يفتتح فيها بحمد الله تعالى ويثني عليه ويتشهد ويصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - ويعظ ويذكر ويقرأ سورة ثم يجلس جلسة خفيفة، ثم يقوم فيخطب خطبة أخرى يحمد الله تعالى ويثني عليه ويصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - ويدعو للمؤمنين والمؤمنات ويكون قدر الخطبة قدر سورة من طوال المفصل."

(كتاب الصلاة، حكم الخطبة، ج:1، ص:263، ط: دار الكتب العلمية)

المحیط البرہانی میں ہے:

"ولا يطول الخطبة، جاء عن عمر رضي الله عنه أنه قال: ‌طولوا ‌الصلاة وقصروا الخطبة، وقال ابن مسعود رضي الله عنه: طول الصلاة وقصر الخطبة مئينة في فقه الرجل."

(كتاب الصلاة، ‌‌الفصل الخامس والعشرون في صلاة الجمعة، ج:2، ص:76، ط: دار الكتب العلمية)

امداد الاحکام میں ہے:

"(سوال)بعض لوگ خطبہ کونماز جمعہ طویل کرتےہیں،اس کےمتعلق شرعی حکم سےمطلع فرمایاجائے۔

(جواب)احادیث نبویہ ا اور تصریحات فقہاء اس پرمتفق ہیں کہ خطبہ کونماز سے طویل نہیں کرنا چاہیے، اور یہ کہ خطبہ میں تطویل کرنا مکروہ ہے،پس اگرگاہےایساہوجائےتوکوئی مضائقہ نہیں،مگراس کاعادی ہونامکروہ ہے۔"

(زیرعنوان:خطبہ جمعہ میں تطویل مکروہ ہے، کتاب الصلوٰۃ، ج:1، ص:803/ 804، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں