بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز فجر کے اہتمام کا طریقہ


سوال

نماز فجر کا اہتمام کس طرح کیا جاۓ؟

جواب

فجر کی نماز مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے حدیث میں ہے کہ فجر کی نماز منافقین پر بہت بھاری ہوتی ہے عام طور سے مسلمان نیند کے غلبے اور سستی سے اس نماز کوچھوڑ دیتے ہیں ۔فجر کی نماز میں کوتاہی عموما رات کوزیادہ دیر تک جاگنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ فجر کے اہتمام کے لیے رات کو جلد سونے کا معمول بنایا جائے بلاضرورت عشا کے بعد نہ جاگے اس کے علاوہ انسان رات کو سونے سے پہلے دل میں فجر کی نماز پڑھنے کا پکا ارادہ کرلے اور صبح جاگنے کے لیے حتی الوسع الارم وغیرہ بھی لگالے تو صدق نیت اور پختہ عزم کے ذریعہ فجر میں اٹھا جاسکتا ہے جیسے رمضان میں سحری کے لیے صدق نیت اور پختہ عزم کے ساتھ اٹھنا ممکن ہوجاتا ہے۔ فقط واللہ اعلم۔


فتوی نمبر : 143101200632

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے