بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نیت میں تردد ہو تو روزے کا حکم


سوال

 میں  پچھلے 3-4 دنوں سے بیمار ہوں ، جس وجہ سے سحری کر کے بنا نیت کئے سوگیا ،ارادہ یہ تھا کہ اگر طبیعت ٹھیک رہی تو نصف نہار سے پہلے نیت کر کے روزہ رکھ لوں گا،لیکن آنکھ نہ کھلنے کی وجہ سے نیت نہیں کر پایاتو کیا میرا روزه ہوا یا نہیں ؟؟

جواب

واضح رہے کہ نیت دِل کے ارادے کا نام ہے اور  دل میں ارادہ کر لینا بھی کافی ہے،  بہرحال اس نیت کے استحضار کے لیے اگر زبان سے بھی نیت کر لیں تو بہتر ہے ،رمضان شریف ،نذر معین اور نفلی  روزوں کی نیت رات سے کرے یا صبح کو نصف النہار شرعی تک کرے تودرست ہے ،باقی روزوں کی نیت صبح صادق سے پہلے کرنا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  چوں کہ سائل کو روزہ رکھنے میں  تردد تھا ،اور نصف النہار سے پہلے اس تردد کو ختم  نہیں کیا،تو سائل کا روزہ بغیر نیت کے رہا ، اور سائل نے نصف النھار سے پہلے روزے کی نیت نہیں کی،لہذا سائل کا روزہ نہیں ہوا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها ولا (عندها) اعتبارا لأكثر اليوم."

"(قوله: إلى الضحوة الكبرى) المراد بها نصف النهار الشرعي والنهار الشرعي من استطارة الضوء في أفق المشرق إلى غروب الشمس والغاية غير داخلة في المغيا كما أشار إليه المصنف بقوله لا عندها. اهـ.

ح وعدل عن تعبير القدوري والمجمع وغيرهما بالزوال لضعفه؛ لأن الزوال نصف النهار من طلوع الشمس ووقت الصوم من طلوع الفجر كما في البحر عن المبسوط قال في الهداية وفي الجامع الصغير قبل نصف النهار وهو الأصح؛ لأنه لا بد من وجود النية في أكثر النهار ونصفه من وقت طلوع الفجر إلى وقت الضحوة الكبرى لا وقت الزوال فتشترط النية قبلها لتتحقق في الأكثر."

(كتاب الصوم، سبب صوم رمضان، 377/2، سعید)

الهدایہ میں ہے:

أن يضجع في أصل النية بأن ينوي أن يصوم غدا إن ‌كان من ‌رمضان ولا ‌يصومه إن ‌كان من شعبان وفي هذا الوجه لا يصير صائما لأنه لم يقطع عزيمته فصار كما إذا نوى أنه إن وجد غدا غذاء يفطر وإن لم يجد يصوم.

(كتاب الصوم، ‌‌فصل في رؤية الهلال، 118/1، دار احياء التراث العربي)

العنایہ فی شرح الھدایہ میں ہے:

"والرابع: أن يضجع في أصل النية) التضجيع في النية الترديد فيها."

(كتاب الصوم، ‌‌فصل في رؤية الهلال، 319/2، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101890

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں