بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نصاب سے کم سونے کے ساتھ کچھ نقدی ہوتو زکوۃ اورقربانی کاحکم


سوال

میری ایک بہن ہے،  اس  کے پاس سونے  کا ایک ساڑھے پانچ ماشے  کا ایک سیٹ ہے اور تین ماشے بالیاں اور اس کے ساتھ وہ ہر ماہ4500 روپے ٹیوشن  کے بھی لیتی ہے،  کیا اب اس پر زکوٰۃ اور قربانی  ضروری  ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہےاگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو  اور اس کے ساتھ سال کے شروع اور آخر میں نقد رقم، مال تجارت،اور چاندی نہ ہو، بلکہ درمیان سال میں رقم آتی رہی اور خرچ ہوتی رہے تو ایسے شخص پر زکاۃ واجب نہیں ہے،  اور اگر نصاب کے سال کے شروع اور آخر میں سونے کے ساتھ  چاندی، نقد رقم یا مال تجارت بھی ہو  اور ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر ہو تو ایسے شخص پر زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگر آپ کی بہن کے پاس آٹھ ماشہ سونے کے  ساتھ بنیادی اخراجات سے زائد کچھ نقد رقم بچت میں کبھی موجود رہی ہے تو اسی وقت سے آپ کی بہن کے نصاب کا سال شروع ہوگیا ہے، پھر اگر چاند کے اعتبار سے سال مکمل ہونے پر اسی تاریخ میں آپ کی بہن کے پاس آٹھ ماشہ سونے کے ساتھ  واجب الاداء اخراجات کے علاوہ بچت میں کچھ نقد رقم یا چاندی یا مالِ تجارت موجود ہو تو آپ کی بہن پر زکاۃ ادا کرنا اورقربانی کرنالازم ہوگا، اس لیےکہ آٹھ ماشہ سونا اور کچھ نقد رقم کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے، اور اس مجموعہ کی ڈھائی فیصد زکاۃ دینا ہوگی، اور اگر زکاۃ  کی ادائیگی کے دن واجب الاداء اخراجات کے علاوہ کچھ رقم، چاندی، یا مال تجارت نہ ہو، بلکہ صرف آٹھ ماشہ سونا ہو تو زکاۃاورقربانی   لازم نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ( و ) يضم ( الذهب إلى الفضة ) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة ) وقالا بالإجزاء فلو له مائة درهم وعشرة دنانير قيمتها مائة وأربعون تجب ستة عنده وخمسة عندهما فافهم

وفي الرد: قوله ( ويضم الخ ) إلى عند الاجتماع أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا."

(ردالمحتار مع الدر المختار، کتاب الزكاة، باب زكاة المال ۲/۳٠۲ ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

'' وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)...(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم''.

(كتاب الأضحية، فروع، 6/ 312، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100272

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں